کرد ملیشیا نے سمجھوتے کے باوجود شام میں’’محفوظ زون‘‘ کو خالی نہیں کیا: ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شامی کرد ملیشیا وائی پی جی نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں مجوزہ محفوظ زون کو خالی نہیں کیا ہے حالانکہ ترکی نے امریکا اور روس کے ساتھ کرد ملیشیا کے شام کے اس علاقے سے انخلا کے سمجھوتے کررکھے ہیں۔

ترکی نے امریکا اور روس کے ساتھ وائی پی جی سے متعلق دو سمجھوتے کیے تھے۔ ان دونوں ممالک نے ترکی کو یہ ضمانت دی تھی کہ کرد ملیشیا کے جنگجو شام کے شمال مشرقی علاقے کو خالی کردیں گے۔ترکی اس علاقے میں ایک محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے۔

امریکا اور روس دونوں کا یہ کہنا ہے کہ کرد ملیشیا نے اس علاقے کو خالی کردیا ہے اور اس کے جنگجو وہاں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جبکہ ترک صدر طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور وہ ابھی تک وہیں موجود ہیں۔

صدر ایردوآن نے منگل کے روز انقرہ میں اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے ارکان کے ایک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وائی پی جی کے جنگجو شام کے شہروں تل رفعت ، منبج اور راس العین کے مشرق میں ابھی تک موجود ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود جب تک امریکا اور روس اپنے وعدوں کی پاسداری جاری رکھتے ہیں تو ترکی بھی ان سے طے شدہ سمجھوتوں کی پابندی کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں