ایران نے فردو پلانٹ میں سینٹری فیوجزمیں یورینیم گیس کا دخول شروع کردیا
ایران نے فردو میں واقع زیر زمین جوہری پلانٹ میں سینٹری فیوجز میں یورینیم گیس کا دخول شروع کردیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ ’’ جوہری توانائی کے عالمی ادارے ( آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کی موجودگی میں یورینیم گیس کو سینٹری فیوجز میں داخل کرنے کا آغاز کردیا ہے۔‘‘
آئی اے ای اے کے ایک ترجمان نے اس اطلاع کی تصدیق کی ہے کہ ادارے کے معائنہ کار اس موقع پر موجود تھے اور وہ فردو کے پلانٹ میں ہونے والی سرگرمی کی ویانا میں صدر دفاتر کو رپورٹ کریں گے۔
ایران چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت فردو کے پلانٹ میں یورینیم کو افزودہ نہیں کرسکتا ہے۔
ایران کے مذکورہ اعلان سے چندے قبل صدر حسن روحانی نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’فردو میں زیر زمین یورینیم افزودگی کی تنصیب میں جلد مکمل آپریشن بحال کردیا جائے گا۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:’’ایران چوتھے قدم کے طور پر جوہری سمجھوتے کے تقاضوں پر عمل درآمد میں کمی کررہا ہے ۔آج ہم نے 1,044 سینٹری فیوجز میں یورینیم گیس کے دخول کا آغاز کردیا ہے۔ اس پر ہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی کے شکرگزار ہیں۔فردو میں جلد مکمل آپریشن بحال کردیا جائے گا۔‘‘
Iran’s 4th step in reducing its commitments under the JCPOA by injecting gas to 1044 centrifuges begins today. Thanks to US policy and its allies, Fordow will soon be back to full operation. https://t.co/Mpkk9d0BIp
— Hassan Rouhani (@HassanRouhani) November 6, 2019
نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمال آفندی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ’’آیندہ چند گھنٹوں میں فردو میں یورینیم ہیکسافلورائیڈ گیس کے سینٹری فیوجز میں دخول کے عمل کو جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے معائنہ کاروں کی موجود گی میں حتمی شکل دے دی جائے گی اور نصف شب سے افزودہ یورینیم کی پیداوار شروع ہوجائے گی۔‘‘
واضح رہے کہ ایران 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت سینٹری فیوجز میں گیس داخل نہ کرنے کا پابند ہے۔اب فردو پر اس نئی سرگرمی کے بعد وہ جوہری سمجھوتے کی ایک اور شق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔