ایران میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ، 12 افراد ہلاک
ایران میں حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اچانک اضافے کے خلاف کے کئی ایک شہروں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
العربیہ نیوز چینل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیرجان شہر میں جمعہ کی شب احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔صوبہ اہواز میں واقع شہر مہامرا میں احتجاجی مظاہرے میں زخمی ہونے والے چار افراد چل بسے ہیں۔ایرانی دارالحکومت تہران کے علاقے شہریار میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
ایران کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز سیکڑوں افراد نے مرکزی شاہراہیں اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے بند کردی ہیں اور ٹائر جلائے ہیں۔انھوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور ’’مرگ برآمر‘‘ کے نعرے لگائے ہیں۔
قبل ازیں ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نےسیرجان شہر میں احتجاجی مظاہرے کے دوران میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ سیرجان کے گورنر محمد محمود آبادی نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ اس کی ہلاکت کی فوری طور پر وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
Iranian petrol protesters in the city of Eslamshahr –12 kilometers away from the capital Tehran– set fire to a banner with Supreme Leader Ayatollah Khamenei’s picture on it. https://t.co/CxgBRQgPLG pic.twitter.com/K6a3IJ6RW3
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) November 16, 2019
گورنر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور انھیں صرف انتباہی فائرنگ کی اجازت دی گئی ہے۔العربیہ نیوز چینل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے ایک اور شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور اس کا نام میثم عبدالوہاب منیاط بتایا ہے۔
ایران کے تریپن شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے بھی ان مظاہروں کی خبر دی ہے۔ان میں مشہد ،سیرجان ، پول دختر ، اہواز ،عبادان ، خرم شہر ، تبریز ، شیراز، اصفہان ، بیرجند ، بندرعباس ،بوشہر، شیرِ قدس، دماوند ، سنان داج ، بندررگ ، یزد ، بابل ، راشت ، ارمیا ، گرمسر ، نیشاپور ، سگیز ، چاہ بہار ،احار ، روضہن ، اسلام شہر ، تہران ، گیش ساران ، زاہدان ، فردیس ، قزوین ، حمدان،خرم آباد اور کرمان شاہ شامل ہیں۔
بوشہر میں ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی توپوں کااستعمال کیا ہے اور براہ راست گولیاں بھی چلائی ہیں جس کے بعد مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔
دارالحکومت تہران میں مظاہرین نے مرکزی شاہراہ ہمت ایکسپریس وے کو اپنی کاریں کھڑی کرکے بند کردیا۔وہ ’’مرگ برآمر‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔اس سے ان کی مراد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تھے۔ اصفہان شہر میں بھی مظاہرین نے اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے ایک مرکزی شاہراہ کو بند کردیا۔
Iranian protesters chant: “No Gaza. No Lebanon. I give my life for Iran,” in a comment on Iran’s support for Hamas and Hezbollah. Protests erupted after the government’s decision to ration and hike the price of petrol.https://t.co/CxgBRQgPLG pic.twitter.com/OEvyjMNvEl
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) November 16, 2019
ایران کے جنوبی صوبہ فارس کے دارالحکومت سلطان آباد میں مظاہرین نے شاہراہیں بند کردیں اور بعض مظاہرین نے ٹائر جلائے ہیں۔شیراز میں ایرانی مظاہرین یہ نعرے بازی کررہے تھے کہ ’’ہمیں غزہ اور لبنان نہیں چاہیے‘‘۔ان کا اشارہ ایرانی نظام کی فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی حمایت کی جانب تھا۔
سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں۔ان میں مظاہرین نے بہباہن شہر میں ایران کے مرکزی بنک کو آگ لگا دی ہے۔ایرنا کی اطلاع کے مطابق مظاہرین نے سیرجان میں ایندھن کے ایک ڈپو کو آگ لگانے کی کوشش کی ہے لیکن پولیس نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں پچاس فی صد تک اضافہ کردیا تھا اور اس کی راشن بندی کردی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد نقدی سے محروم شہریوں کی مدد کرنا ہے۔
ایران کی منصوبہ بندی اور بجٹ تنظیم کے سربراہ محمد باقر نوبخت نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا تھا کہ اس اقدام سے ملک کو سالانہ تین سو کھرب ریال ( دو ارب پچپن کروڑ ڈالر) کی بچت ہوگی۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایران میں غریب لوگوں کے مفاد میں ہے۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی اور عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی نے بھی اس فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
Iranian protesters in Bushehr city call security forces “dishonorable” as the latter uses water cannons in an attempt to disperse the crowds revolting against the government’s decision to ration and hike the price of petrol.https://t.co/CxgBRQgPLG pic.twitter.com/ZEghqC5JLg
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) November 16, 2019