ایران میں’’انسانیت مخالف نظام‘‘رہا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا:مریم رجوی
ایران کی جلا وطن حزبِ اختلاف کی رہ نما مریم رجوی نے کہا ہے کہ ملک میں ’’انسانیت مخالف نظام‘‘ برسراقتدار رہا تو روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔انھوں نے پیٹرول کی قیمت کے خلاف ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور نوجوانوں سے ان احتجاجی ریلیوں میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔
قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران کی سربراہ مریم رجوی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ گیسولین (پیٹرول) کی قیمت میں تین گُنا اضافہ کرکے حکمران ملّا عوام کو مزید غُربت سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
By tripling gasoline prices, the mullahs further impoverish the people. #Iran #IranProtests
— Maryam Rajavi (@Maryam_Rajavi) November 15, 2019
ایرانی حکومت نے جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں پچاس فی صد تک اضافہ کردیا تھا اور اس کی راشن بندی کردی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد نقدی سے محروم شہریوں کی مدد کرنا ہے۔
ایران کی منصوبہ بندی اور بجٹ تنظیم کے سربراہ محمد باقر نوبخت نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا تھا کہ اس اقدام سے ملک کو سالانہ تین سو کھرب ریال ( دو ارب پچپن کروڑ ڈالر) کی بچت ہوگی۔
حکومت کے اس فیصلے کے ایک روز بعد ایران بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اور ہفتے کے روز ملک کے تریپن شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔انھوں نے اپنی کاریں اور گاڑیاں کھڑی کرکے مرکزی شاہراہیں بند کردی ہیں، ٹائر جلائے ہیں اور ’’مرگ بر آمر‘‘ کے نعرے لگائے ہیں۔
مریم رجوی نے بالخصوص سیرجان ، شیراز اور دوسرے شہروں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کو سراہا ہے اور نوجوانوں سے کہا ہے کہ ملّا نظام کے ایرانی عوام کو غربت ، افراطِ زر اور دوسری آفتوں سے دوچار کرنے کے اقدامات سے نجات دلانے کے لیے احتجاجی ریلیوں میں حصہ لیں۔