اسرائیل نے اپنے ہاں تعینات بیلاروس کے سفیر کو بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے "العربیہ انگلش" کو دیے گئے اس بیان کے بعد طلب کر لیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل غزہ میں ہولوکاسٹ کا ارتکاب کر رہا ہے۔
"العربیہ انگلش" کے ساتھ اپنی گفتگو میں لوکاشینکو نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ہولوکاسٹ کیا ہے، اس لیے اسرائیل کو زیادہ محتاط رہنا چاہیے، غزہ پر بمباری کی وجہ سے دنیا میں اس کی ساکھ پہلے ہی خراب ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو نسل کشی قرار دیا۔
بیلاروس کے صدر نے سوال اٹھایا کہ ہم اس ہولوکاسٹ کے بارے میں کیوں بات کرتے ہیں جس کا شکار اسرائیلی ہوئے جبکہ وہ خود اتنے سارے لوگوں کو قتل کر چکے ہیں؟ غزہ کی پٹی میں بنیادی طور پر خواتین اور بچے مارے گئے ہیں، اسے زمین کے اوپر سے مٹا دیا گیا ہے۔
الرئيس البيلاروسي ألكسندر لوكاشينكو للعربية الإنجليزية: إسرائيل لا تزال تعتمد اعتمادًا كبيرًا على الدعم والحماية العسكرية الأميركية pic.twitter.com/sfywD4eH6K
— العربية (@AlArabiya) June 15, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس زمین پر ایک ریزورٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں یہ لوگ مارے گئے ہیں، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کر دینا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر جوہری ہتھیار بھی کسی کام کے نہیں ہوں گے۔