صحافتی تنظیم کا لندن میں ایرانی سفیر پر صحافیوں کو دھمکیاں دینے کا الزام
صحافیوں کے دفاع کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم'رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز' نے الزام عاید کیا ہےکہ برطانیہ کےدارالحکومت لندن میں موجود ایرانی سفیر صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے میں ملوث ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق صحافتی تنظیم کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن میں تعینات ایرانی سفیر حمید بعیدی نژاد نے بیرون ملک موجود صحافیوں کو ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے دھمکی آمیز پیغامات پہنچائے گئے ہیں۔ ان دھمکی آمیز پیغامات میں صحافیوں کو خبردار کیاگیا کہ ایران میں موجود ان کےاہل خانہ کو اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
تنظیم نے منگل کے روز اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ میں سیاسی امور اور بین الاقوامی تحفظ کے سابقہ ڈائریکٹر حامد بعیدی نژاد نے لندن میں ایران کے سفیر کا عہدہ سنبھالنے کےبعد اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے میڈیا اور صحافیوں کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔
سفیرجو سفارتی استثنیٰ رکھتا ہے۔ صرف فارسی میں اس طرح کی دھمکیاں دیتا ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس سروسز کے الزامات کا اعادہ کرتا ہے اور اسی لہجےکا استعمال کرتے ہوئے صحافیوں کو غیرملکی ایجنٹ اور دشمن کے آلہ کار قرار دیتا ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق ، ایران کے انٹلیجنس اور سیکیورٹی سروسز کے ذریعہ ایران بین الاقوامی ٹیلی ویژن ، فردا ریڈیو ، بی بی سی ، وائس آف امریکا (VOA) ، منوتو ٹیلی ویژن اور دیگر جیسے بیرون ملک فارسی بولنے والے میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں کو ڈرایا گیا ہے۔
پیرس میں مقیم تنظیم کے مطابق ، رپورٹرز وِٹ بارڈرز کے 2019 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ایران 180 ممالک میں سے 170 نمبر پر ہے۔
برطانوی جرنلسٹس کے سنڈیکیٹ نے منگل کے روز ایک بیان میں ایران انٹرنیشنل اور بی بی سی کے ملازمین کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے اور ایرانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کو ہراساں کرنا بند کرے۔