ایران قیدیوں کے مکمل تبادلے کو تیار،اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ قیدیوں کے مکمل تبادلے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے۔اسی ہفتے ہم اپنے ایک یرغمالی کی واپسی کے بعد قیدیوں کے جامع تبادلے کے لیے مکمل تیار ہیں۔‘‘

امریکا اور ایران نے ہفتے کے روز اپنے ایک ایک قیدی کا تبادلہ کیا ہے۔ایران نے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے ایک امریکی کو رہا کیا تھا جبکہ امریکا نے ایک ایرانی محقق قیدی کو رہا کیا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کے تعاون کا یہ منفرد واقعہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا ’’بہت شفاف‘‘ مذاکرات پر شکریہ ادا کیا تھا جن کے نتیجے میں ایران میں گرفتار امریکی اسکالر کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

دریں اثناء ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ہمیشہ امریکا کے ساتھ ’’تمام کے بدلے تمام‘‘ کی رہائی کے لیے تیار رہا ہے۔ہم امریکا میں غیر منصفانہ طور پر زیرحراست تمام ایرانیوں کی رہائی کے لیے تعاون کو تیار ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوششوں کو امریکا کے ساتھ ایران کے دوسرے موضوعات پر مذاکرات سے نہ جوڑا جائے۔اگر امریکا ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کردیتا ہے کہ ایران کے ساتھ 2016ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں لوٹ آتا تو پھر اس کے ساتھ مزید بات چیت ممکن ہے۔

واضح رہے کہ امریکا ایران سے باپ بیٹے سیانک اور باقر نمازی ،بحریہ کے سابق اہلکار مائیکل آر وائٹ اور امریکی ایف بی آئی کے ایک سابق ایجنٹ رابرٹ لینوسن کی رہائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔رابرٹ ایران میں 2007ء سے قید ہیں۔ادھر امریکا کی جیلوں میں دسیوں ایرانی شہر بند ہیں۔ان میں بہت سے افراد کو امریکا کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں