لیبی فوج نے ترکی کا ایک اور ڈرون طیارہ مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل المسماری نے کہا ہے کہ فوج نے ترکی ایک اور ڈرون طیارہ مار گرایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں جنرل المسماری نے کہا کہ ترکی کا بغیر پائلٹ ایک ڈرون طیارہ لیبی فوج پر بمباری کے لیے چھوڑا گیا تھا مگر اسے فضاء میں تباہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے لیبی قوم کے خلاف اعلانیہ اور کھلی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی فوج نہ صرف قومی وفاق حکومت کی وفادار ملیشیائوں کے خلاف برسر پیکار ہے بلکہ ہماری جنگ لیبیا کے دشمنوں کے خلاف بھی ہے۔ ان میں ترکی پیش پیش ہے جس نے لیبیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے لیے قومی وفاق حکومت اور اس کی وفادار ملیشیائوں کو سیاسی اور عسکری امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

جنرل المسماری نے العربیہ چینل کو دیے گئےایک انٹرویو میں کہا کہ ترک صدر طیب ایردوآن اور ترک فوج کے خلاف ہماری جنگ نئی نہیں اور نہ ہی یہ رواں سال اپریل سے شروع ہونے والے معرکے سے شروع ہوئی ہے۔ ترکی اور اس کے وفادار دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ کئی سال سے جاری ہے۔ یہ دہشت گرد ترکی کی مدد سے لیبیا کو تباہ کرنے پرتلےہوئے ہیں۔

ادھر کل سوموار کے روز لیبی فوج نے کہا تھا کہ ہم لیبیا کی سرزمین پر ایک بھی غیرملکی فوجی کا وجود برداشت نہیں کریں گے۔ لیبیا کی فوج نے ترکی کی طرف سے طرابلس کی ملیشیائوں کی معاونت کے لیے فوج بھیجنے کے اعلان کو مسترد کردیا اور کہا کہ ہم اپنے ملک میں کسی غیرملکی فوجی کا وجود گوارا نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے لیبی فوج اور قومی وفاق حکومت کےدرمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ عالمی سطح پرتسلیم شدہ لیبی حکومت کو ترکی کی اعلانیہ حمایت حاصل ہے جب کہ لیبی فوج جس کی کمان جنرل حفتر کے پاس ہے قومی وفاق حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کوشاں ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں