ترکی میں گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں کم سے کم 200 افراد گرفتار
ترکی میں پولیس نے سنہ 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث گروپ سے تعلق کے الزام میں 181 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترک دارالحکومت انقرہ کے پبلک پراسیکیوٹر نے پیغام رسانی کی سروس ’بائی لاک‘ کو استعمال کرنے کے الزام میں 260 افراد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ناکام بغاوت برپا کرنے والے گروپ نے بائی لاک کو صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے تانے بانے بننے کے لیے استعمال کیا تھا اور وہ اسی کے ذریعے آپس میں رابطے میں رہتے تھے۔
18مشتبہ افراد کے خلاف ایک اور کیس میں تحقیقات کی جارہی ہے۔ان میں 10 ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔
انقرہ کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا ہے کہ دارالحکومت سے پولیس نے 171 افراد کو گرفتار کیا ہے اور باقی 10 مشتبہ افراد کو ملک کے دوسرے علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ترکی میں حکام نے امریکا میں مقیم مسلم اسکالر فتح اللہ گولن کی تحریک سے تعلق کے الزام میں ہزاروں افراد کوگرفتار کیا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور دوسرے عہدے داروں نے فتح اللہ گولن پر حکومت کا تختہ الٹنے کا حکم دینے کا الزام عاید کیا تھا لیکن خود علامہ گولن نے اس الزام کی ترید کی تھی۔
واضح رہے کہ صدر ایردوآن کی حکومت کے خلاف اس ناکام بغاوت کے بعد حکام نے فتح اللہ گولن کی تحریک سے مشتبہ تعلق کے الزام میں مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ملازمین کو معطل یا برطرف کیا ہے۔