مسلسل 8 گھنٹے کی پرواز اور مسافت صرف 136 کلو میٹر:ماجرا کیا ہے؟
آئے روز انتہائی تیز رفتار ہوائی جہازوں کے منظرعام پرآنے کی خبریں تو آتی ہیں مگر ایک خبر ذرا ہٹ کرہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہوائی جہاز مسلسل 8 گھنٹے فضاء میں اڑنے کے باوجود صرف 136 کلو میٹر کی مسافت طے کرپایا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمنی سے امریکی شہر نیویارک کے لیے روانہ ہونے والے جہاز میں ٹیک آف کے ساتھ ہی فنی خرابی پیدا ہوئی۔ جہاز عملے کو پتا چلا تو اس نے ہوائی جہاز کو واپس فرانکفرٹ ہوائی اڈے پر اتارنے کی کوشش کی مگر رات کے وقت ہوائی اڈہ بن چکا تھا جس کے بعد ہواباز اس جہاز کو فضاء ہی میں گھماتا رہا۔ یہاں تک کہ 8 گھنٹے گذر گئے۔ مسافر بھی تھک چکے تھے۔ جب انہیں پتا چلا کہ مسلسل 8 گھنٹے فضاء میں اڑنےکے باوجود وہ ابھی تک صرف 136 کلو میٹر کی مسافت طے کرپائے ہیں تو وہ سخت مایوس ہوئے۔ انہیں بتایا گیا کہ جہاز ہائیڈرولک سسٹم میں خرابی کی وجہ سے پرواز جاری نہیں رکھ سکا تو وہ بہت پریشان اور خوف زدہ ہوئے۔
جرمنی کی فضائی کمپنی'لوفنتھاسا' کمپنی کی پرواز 'ایل ایچ 404' فرانفرٹ ہوائی اڈے سے نیویارک کے جون کینڈی ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوئی تو فضاء میں بلند ہوتے ہی طیارے میں فنی خرابی ظاہر ہوگئی۔ اس کے بعد یہ طیارہ آٹھ گھنٹے تک بحر اوقیاس پر گردش کرتا رہا۔ اس نے واپس جرمنی لوٹنے اور قریبی ہوائی اڈے پراترنے کی کوشش کی مگر رات کےوقت ہوائی اڈا بند ہونے کی وجہ سے جہاز کی لینڈنگ نہ ہوسکی۔ بالآخر ہوائی جہاز کو فرانکفرٹ سے 85 میل دور'کلون' ہوائی اڈے پر اتارا گیا جہاں سے مسافروں کو بسوں کے ذریعے فرانک فرٹ بھیجا گیا۔
جریدے بزنس انسائیڈر کے مطابق ہوائی جہاز بہ حفاظت اتر گیا اور اس کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم مسافر بہت زیادہ پریشان اور تھکاوٹ کا شکار تھے۔