.

نِسان موٹرکے سابق چیئرمین کے خلاف انٹرپول کا جاری کردہ ریڈ نوٹس لبنان کو موصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کو فرانس میں قائم بین الاقوامی پولیس ایجنسی (انٹرپول) کی جانب سے جاپان کی موٹرساز کمپنی نِسان کے سابق چیئرمین کے خلاف جاری کردہ ریڈ نوٹس موصول ہوگیا ہے،اس میں کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مطلوب شخصیت ہیں۔

لبنانی وزیر انصاف البرٹ سرحان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ’’کارلوس غصن کے خلاف ریڈنوٹس جمعرات کی صبح حکام کو موصول ہوا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ انٹرپول کے جاری کردہ ریڈ نوٹسز میں دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ وہ مطلوب افراد کا سراغ لگائیں اور انھیں عبوری طور پر گرفتار کر لیں۔پھر انھیں انٹرپول اورمتعلقہ ملک کے حوالے کیا جاتا ہے۔

کارلوس غصن گذشتہ سوموار کو جاپان سے آلات موسیقی کے ایک صندوق میں چھپ کر پہلے استنبول پہنچے تھے اور پھر وہاں سے بیروت پہنچ گئے تھے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جاپان میں کڑی نگرانی کے باوجود وہ کیسے جل دے کر لبنان پہنچ جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ادھر جاپان میں پراسیکیوٹرز نے جمعرات کو ٹوکیو میں غصن کے مکان پر چھاپا مارا ہے اور جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ حکام نے کارلوس غصن کو اپنے فرانسیسی پاسپورٹ پر سفر کی اجازت دے دی تھی۔وہ اپنے خلاف دائر بدعنوانی کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے مگر ان کے پاسپورٹس ضبط کر لیے گئے تھے۔

لبنانی حکام کا کہنا تھا کہ کارلوس غصن لبنان میں اپنے فرانسیسی پاسپورٹ پر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور حکام کے پاس انھیں ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔جاپان کا لبنان کے ساتھ ملزموں یا مطلوب افراد کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں۔اس لیے وہ لبنان کو مسٹر غصن کو حوالے کرنے کا نہیں کہہ سکتا۔

واضح رہے کہ نِسان موٹر کے سابق چیئرمین کے خلاف جاپان میں بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان پر اپنی مستقبل کی مراعات کو مخفی رکھنے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے پر فرد الزام عاید کی گئی تھی لیکن وہ خود کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جاپانی حکام نے نِسان موٹر کمپنی اور رینالٹ ایس اے کے ممکنہ مکمل ادغام کو روکنے کے لیے ان کے خلاف الزامات عاید کیے ہیں۔انھوں نے ڈیڑھ ارب یِن ( ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر) کے بدلے میں اپنی رہائی کے لیے ضمانت کروائی تھی لیکن ان کی یہ ضمانت منسوخ ہوچکی ہے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’میں اس وقت لبنان میں ہوں،میں اب جاپان کے آلودہ عدالتی نظام کا یرغمالی نہیں رہوں گا۔اس نظام میں گناہ کو فرض کیا جاتا ہے،امتیازی سلوک عام ہے اور بنیادی انسانی حقوق سے انکار کیا جاتا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا:’’ میں انصاف سے فرار نہیں ہوا ہوں،میں نے ناانصافی اور سیاسی انتقام سے راہِ فرار اختیار کی ہے۔میں اب آزادانہ طور پر میڈیا سے ابلاغ کرسکتا ہوں اور آیندہ ہفتے نئی شروعات کرنے کی تیاری کررہا ہوں۔‘‘