.

طالبان اور امریکا معاہدے کے قریب پہنچ گئے، مذاکرات جنگ بندی کے بعد ہوں‌ گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک سینیر عہدیدار نے کل جمعہ کے روز بتایا ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان کے درمیان بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ فریقین جنگ بندی اور اس کے بعد مذاکرات کی بحالی پر تیار ہوگئے ہیں۔ فریقین کے درمیان جلد ہی باقاعدہ جنگ بندی کا آغاز ہوگا تاہم فی الحال افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی کوئی تجویز شامل نہیں کی گئی ہے۔

امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ فریقین نے سات دن تک کسی قسم کے پر تشدد حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے بعد فریقین امن مذاکرات شروع کریں‌ گے۔ مذاکرات کا عمل 10 روز میں شروع ہوگا جس میں طالبان سمیت تمام فریقین شامل ہوں گے۔

درایں اثناء خٰبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' نے امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے طالبان کے ساتھ امن بات چیت میں اہم پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فریقین ایک ہفتے کے لیے عدم تشدد کے معاہدے پر متفق ہوئے ہیں تاہم باقاعدہ بات چیت بعد میں ہوگی جس میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی بھی شامل ہے۔

میونخ میں ایک سیکیورٹی کانفرنس کے دوران امریکی عہدیدار نےبتایا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ابتدائی معاہدہ سات دن پر مشتمل ہے جس میں فریقین نے ایک دوسرے پر کسی قسم کے حملےنہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔

افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فریفین میں معاہدے کی صورت میں افغانستان سے امریکی فوج نکل جائے گی۔ فریقین میں‌ جنگ بندی کے تازہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوئے جن میں افغانستان کے لیے امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے مندوبین نے شرکت کی تھی۔