فرانس: ماسک اور دستانوں کی شکل میں کرونا کا کچرا ساحلوں کے لیے سنگین خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ایک مقامی جماعت نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والا کچرا اور باقیات ریویرا کے علاقے میں انتیب کے تفریحی مقام کے نزدیک بحیرہ روم میں پھیلا ہوا ہے۔ مذکورہ جماعت اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور علاقے کی صفائی کی کوششیں کر رہی ہے۔

اس کچرے میں آپریشن کے دوران استعمال ہونے والے ماسک اور ربڑ کے دستانے شامل ہیں۔ یہ بحیرہ روم کی لہروں کے نیچے تیرے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے "آپریشن کلین سِی" نامی گروپ نے گذشتہ ہفتے ایک وڈیو بنائی تھی۔ اس وڈیو میں سمندر کی سطح پر شراب کی بوتلوں اور دیگر کچرے کے ساتھ ماسک اور دستانے بھی پھیلے ہوئے نظر آئے۔

اس گروپ نے تصاویر اور وڈیو کو انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلا دیا۔ فرانس اور دیگر ممالک قیود میں کمی اور اپنے ساحلوں کو دوبارہ سے کھولنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ گروپ نے خبردار کیا ہے کہ یہ کچرا بحیرہ روم میں آلودگی کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔

ایک مقامی رکن پارلیمنٹ نے تجویز پیش کی ہے کہ سمندر میں ماسک اور کچرا پھینکنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔

فرانسیسی گروپ "آپریشن کلین سِی" کے بانی جیفری بیلتیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وائرس سے متعلق کچرے کی مقدار ابھی محدود ہے لیکن اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو یہ ریویرا کے خوب صورت ساحل پر آلودگی پھیلانے کا باعث بنے گا۔

دارالحکومت پیرس میں صفائی کرنے والے کارکنان نے بھی فٹ پاتھوں پر پڑے ہوئے ماسک کی تعداد میں اضافے کی شکایت کی ہے۔ یہ صورت حال فرانس کی جانب سے لاک ڈاؤن کے اقدامات میں بتدریج نرمی کرنے اور مزید عوامی مقامات پر شہریوں کے ماسک پہننے کی شرط عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں