ہانگ کانگ میں نئے قانون پر امریکا اور چین میں شدید اختلافات سامنے آگئے

امریکی صدر نے چینی عہدیداران پر پابندیوں عائد کرنے کا عندیہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہانگ کانگ میں قومی سلامتی سے متعلق چینی متنازعہ بل سمیت متعدد دیگر تنازعات کے حوالے سے امریکا اور چین میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ چین کی وجہ سے واشنگٹن ہانگ کانگ جانے والے امریکی شہریوں کو سفر سے روک دے گا۔

ٹرمپ نے جمعہ کو واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو ہانگ کانگ کی تشویشناک صورتحال سے منسلک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ہانگ کانگ کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کریں گے اور ہانگ کانگ جانے والے امریکی شہریوں کو نئے چینی قواعد کی روشنی میں سفری ہدایات جاری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا امریکا میں چینیوں کا داخلہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ چین ہانگ کانگ کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ طے پائے معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے ہانگ کانگ میں چین کی مداخلت ظاہر کرتی ہے کہ مؤخر الذکر اب آزاد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے ہانگ کانگ کے نظام کو دو ممالک میں سے ایک میں تبدیل کر دیا ہے اور چین کی خود مختاری کو ختم کرنے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

کرونا وبا کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ چین کی جانب سے ووہان میں کرونا وبا پر پردہ ڈالنے سے عالمی سطح پر بیماری پھیلی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بیجنگ عالمی ادارہ صحت کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں