.

ترکی عرب امور میں مداخلت کے لیے ایران کی نقالی کررہا ہے:عرب لیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے خطے کے امور میں ایران اور ترکی کی مداخلت کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں چاہتے ہیں۔

عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام زکی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’عرب امور میں ترک اور ایرانی مداخلت ختم کی جانا چاہیے۔‘‘

انھوں نے مصر کی مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کی عرب تنازعات میں براہ راست یا گماشتہ تنظیموں اور ملیشیاؤں کے ذریعے مداخلت برسوں سے متنازع رہی ہے۔بالخصوص یمن ، شام اور عراق میں۔ عرب دنیا نے ترکی کی پہلے شامی جنگ اور حال ہی میں لیبیا کے تنازع میں مداخلت کی مذمت کی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’عرب دنیا لیبیا ،شام اور عراق میں ترکی کی مداخلت اور لیبیا میں غیرملکی جنگجوؤں اور دہشت گردوں کا استعمال مسترد کرتی ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے۔‘‘

حسام زکی نے کہا کہ ترکی لیبی حکومت کے ساتھ اقتصادی ، سیاسی اور فوجی مقاصد کے لیے سمجھوتے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہا ہے۔

ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نے کہا تھا کہ ترکی کی عراق ، شام اور لیبیا میں فوجی مداخلت تنظیم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

حسام زکی نے کہا کہ ’’ ترک اب عرب دنیا کے بارے میں ایرانی حکمتِ عملی کی تقلید کررہے ہیں۔ ایران اور ترکی عرب دنیا میں اختلاف اور تقسیم کے بیج بورہے ہیں اور تنازعات پیدا کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے لیبیا کے تنازع کے حل کے حوالے سے کہا کہ عرب دنیا اس ضمن میں مصر کے پیش کردہ امن اقدام کی حمایت کرتی ہے۔اس سے تنازع کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔