.

لیبیا میں ترکی کی خلاف ورزیوں کا جواب دینے پرغور کر رہے ہیں: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لیبیا اور عراق میں ترکی کی جانب سے حالیہ کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواب دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی ترجمان آنیس وان ڈیر مول نے العربیہ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیرس انقرہ کی خلاف ورزیوں کا جواب دینے پر غور کررہا ہے۔ اس حوالے سے فرانس نے دوسرے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشورہ کیا ہے تاکہ یورپ کو درپیش خطرات کا تدارک کیا جاسکے۔

انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ترکی کی طرف سے لیبیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

ترجمان نے انکشاف کیا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لوڈریان آج جمعہ کو برلن روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ اپنے جرمن اور برطانوی ہم منصبوں کے ساتھ لیبیا میں جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس واضح کرچکا ہے کہ ترکی نیٹو میں مشکلات پیدا کررہا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی اور فرانس کے درمیان کشیدگی گذشتہ ہفتے اس وقت پیدا ہوئی تھی جب ترکی کی طرف سے لیبیا بھیجا جانے والا ایک اسلحہ بردار جہاز مصراتہ بندرگاہ پر روکا تھا۔ جب فرانسیسی حکام نے جہاز کے عملے سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ لیبیا جا رہے ہیں اور جہاز پر ادویات لادی گئی ہیں۔ جب جہاز کی تلاشی لی گئی تو اس پر ترکی کےساختہ M60 ٹینک اور ہاک میزائل برآمد ہوئے۔ فرانس کے مطابق یہ اسلحہ ترکی کی طرف سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی حامی ملیشیا کے لیے بھیجا گیا تھا۔