جان بولٹن کو قانون شکنی کی بھاری قیمت چکانا ہوگی: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اپنی یادداشتیں شائع کرکے "قانون توڑنے" کی "بھاری قیمت" ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بولٹن نے قانون توڑا۔ اسے طلب کیا گیا اور اس کی سرزنش کی گئی ، اور وہ اس کی بھاری قیمت ادا کریں گے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں صدرنے مزید لکھا کہ بولٹن کو لوگوں پر بم پھینکنا اور مارنا پسند ہے۔ اب بم اس پر بم پھینکیں گے۔
خیال رہے کہ امریکی وفاقی جج نے ہفتہ کے روز امریکی انتظامیہ کی طرف سے بولٹن کی کتاب کی اشاعت کو روکنے کے لیے دائر درخواست مسترد کردی تھی۔
BIG COURT WIN against Bolton. Obviously, with the book already given out and leaked to many people and the media, nothing the highly respected Judge could have done about stopping it...BUT, strong & powerful statements & rulings on MONEY & on BREAKING CLASSIFICATION were made....
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) June 20, 2020
تاہم جج رائس لیمبرٹ نے کتاب کی اشاعت کے بارے میں جان بولٹن کے نقطہ نظر کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بولٹن نے قومی انٹیلی جنس حکام سے حتمی منظوری حاصل کیے بغیر اپنی کتاب شائع کرنے بوجھ اپنے کندھوں پر لے لیا۔ اس سے قومی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
جج نے مزید کہا کہ کہا پہلے ہی ملک بھر بولٹن کی کتاب کی دو لاکھ کاپیاں فروخت کردی گئی ہیں۔ اب اس کی اشاعت روکنا بے سود ثابت ہوں گی۔
یہ کتاب اگلے ہفتے بازار میں فروخت ہوگی۔ منگل کے روز اشاعت کی تیاری کے لیے کتاب "دی روم ویئر ایٹ ہپنڈ" کی بڑی کاپیاں لائبریریوں میں بھیج دی گئیں۔ متعدد ذرائع ابلاغ کے مطابق کتاب کا ایک بڑا حصہ صدر ٹرمپ پر تنقید کے لیے وقف کیا گیا ہے۔