.

کرونا وائرس : سعودی عرب ،حج کے پروٹوکول اور عازمین کے لیے اقدامات کا اعلان

ایک وقت میں 10 ہزار سے زیادہ افراد کو مناسکِ حج ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،پہلے ٹیسٹ ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اس مرتبہ حج بیت اللہ کے موقع پر عازمین کے تحفظ اور کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف اقدامات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب نے سوموار کو کرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر محدود پیمانے پر حجِ بیت اللہ کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ دنیا بھر سے ہر سال قریباً 25 لاکھ فرزندان توحید حج کے لیے حجازِ مقدس میں آتے ہیں مگر اس مرتبہ سعودی حکومت نے محدود پیمانے پر حج کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے اور صرف سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شہری ہی حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرسکیں گے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے تمام عازمین حج کی صحت کے تحفظ اور ان میں کووڈ-19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وزارت حج اور عمرہ کے اشتراک سے ایک منصوبہ وضع کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح البنتن نے کہا ہے کہ ’’ہم نے حج سیزن کو محفوظ بنانے کے لیے وزارت صحت کے ساتھ مل کرحفاظتی احتیاطی تدابیر اور پروٹوکول وضع کیے ہیں۔‘‘

ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
1۔ ایک وقت میں 10 ہزار سے زیادہ افراد کو حج کے مناسک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

2۔مقدس مقامات پر پہنچنے سے قبل تمام عازمین حج کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

3۔اس مرتبہ صرف 65 سال سے کم عمر مسلمانوں کو حج کرنے کی اجازت ہوگی۔

4۔تمام عازمین مناسکِ حج کی تکمیل کے بعد خود کو قرنطین کر لیں گے۔

5۔ تمام ورکروں اور رضا کاروں کے حج کے آغاز سے قبل ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

6۔تمام عازمین حج کی صحت کی صورت حال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے گی۔

7۔ حج کے دوران میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک اسپتال تیار کرلیا گیا ہے۔

8۔ سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کا نفاذ کیا جائے گا۔

سعودی وزارت خارجہ نے گذشتہ روز ایک اعلامیے میں بتایا تھا کہ اس مرتبہ ذی الحجہ میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو محدود تعداد میں فریضہ حج ادا کرنے کی اجازت ہوگی اور یہ غیرملکی وہی ہوں گے جو سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ان کے علاوہ محدود تعداد میں سعودی شہری فریضہ حج ادا کرسکیں گے۔

اس نے مزید کہا کہ ’’ کرونا وائرس کی وَبا، ازدحام اور بڑے اجتماعات میں اس کے پھیلنے،ممالک میں اس کی منتقلی اور عالمی سطح پر اس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس مرتبہ حج بہت محدود تعداد میں ہوگا۔‘‘

اعلامیے کے مطابق’’صحتِ عامہ کے نقطہ نظر سے حج بیت اللہ کی محفوظ انداز میں ادائی کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس دوران میں تمام حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی جائے گی،وبا کے خطرات سے بچنے کے لیے سماجی فاصلے کے پروٹوکولز کی پاسداری کی جائے گی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بنی نوع انسان کی زندگیوں کا تحفظ کیا جائے گا۔‘‘

امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس کی مہلک وبا سے 9108670 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ان میں کرونا کے 472703 مریض وفات پا چکے ہیں۔