.

شام کے اُجرتی جنگجو طرابلس میں پولیس کی وردیوں میں ملبوس: لیبی قومی فوج کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج کے عہدہ دار انکشاف کیا ہے کہ شامی اجرتی جنگجوؤں کی پہلی نفری پولیس کی وردیوں میں دارالحکومت طرابلس کی سڑکوں پر آ گئی ہے۔ ان افراد نے اپنی پوزیشنیں سنبھال کر سیکورٹی ذمے داریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سے قبل مذکورہ افراد کو تربیت دے کر وفاق حکومت کی وزارت داخلہ میں ضم کیا گیا تحا

کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کے سینئر عہدے دار بریگیڈیر جنرل خالد المحجوب نے ہفتے کے روز العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ شامی اجرتی جنگجوؤں کے ایک گروپ کو دارالحکومت طرابلس کے عسکری کیمپ "التكبالی" میں تربیت دی گئی۔ اب وہ گروپ لیبیا کی سیکورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس سڑکوں پر موجود ہے تا کہ اپنے مشن کا آغاز کر سکے۔ ان افراد کو وفاق حکومت کے زیر انتظام پولیس کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو کلپوں میں شامی اجرتی جنگجو عناصر کو لیبیا کی پولیس کی وردیوں میں طرابلس کے جنوب میں ایک کیمپ کے اندر تربیت حاصل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق حکومت ان اجرتی جنگجوؤں کو، جنہیں ترکی نے لیبیا منتقل کیا ہے ، سیکورٹی فورسز میں شامل کرنے کا اردہ رکھتی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ترکی کی حکومت کی جانب سے اپنے ہمنوا اجرتی جنگجو گروپوں کو لیبیا منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا مقصد ان جنگجوؤں کی وفاق حکومت کے ہمنوا گروپوں کے شانہ بشانہ عسکری کارروائیوں میں شرکت ہے۔ گذشتہ چند روز کے دوران جہاں اجرتی جنگجووں کے نئے دستے لیبیا پہنچے وہاں دیگر اجرتی عناصر کے گروپ اپنے معاہدوں کی مدت پوری ہونے کے بعد واپس شام روانہ ہو گئے۔

المرصد گروپ کے مطابق اب تک لیبیا جانے والے بھرتی شدہ شامی اجرتی جنگجوؤں کی مجموعی تعداد تقریبا 16500 ہے۔ ان میں 18 برس سے کم عمر 350 بچے بھی شامل ہیں۔ اس دوران 5850 کے قریب اجرتی جنگجو اپنے معاہدے کی مدت کی تکمیل اور اپنے مالی واجبات کی وصولی کے بعد شام لوٹ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ کی ذمے دار کمیٹی کے مطابق ترکی نے 7000 سے 15000 کے درمیان شامی جنگجو لیبیا بھیجے ہیں ۔ جمعہ کو جاری کردہ کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ہتھیاروں پر پابندی کی خلاف ورزی کے سبب لیبیا اسلحے کی ایک بڑی منڈی بنتا جا رہا ہے۔