.

کرونا وائرس: حجاج کرام کا طواف الوداع ،واپسی پر 14 دن قرنطین میں رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ میں حجاج کرام آج دوسرے مناسک کی تکمیل کے بعد بیت اللہ کا طواف الوداع کررہے ہیں اوراس کے بعد وہ سعودی عرب میں اپنے اپنے آبائی علاقوں یا اقامت گاہوں کی جانب روانہ ہوجائیں گے۔

حجاج کرام کو قبل ازیں منیٰ سے خصوصی گاڑیوں کے ذریعے جمرات لایا گیا تھا جہاں انھوں نے سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے تیسری مرتبہ شیطان کو کنکریاں ماریں اور دعائیں کی تھیں۔

پھر انھیں مسجد الحرام لایا گیا ہے جہاں وہ گروپوں کی شکل میں اور کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے طے شدہ فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے الوداعی طواف کررہے ہیں۔کعبۃ اللہ کے’’طواف زیارہ‘‘کے بعد ان کے مناسکِ حج کی تکمیل ہوجائے گی۔

العربیہ کے نمایندے کی اطلاع کے مطابق طواف زیارہ کے بعد بعض حجاج کو ان کی مخصوص جائے اقامت ہوٹل میں منتقل کردیا جائے گا جہاں وہ تنہائی میں رہیں گے جبکہ دوسرے حجاج کرام سعودی عرب میں اپنے شہروں اور علاقوں کی جانب لوٹ جائیں گے اور وہ اپنے اپنے گھروں یا اقامت گاہوں میں 14 روز تک قرنطین میں رہیں گے۔

مسجد الحرام کی سکیورٹی فورسز کے کمانڈر میجر جنرل یحییٰ بن عبدالرحمان العقیل نے سرکاری سعودی پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حجاج کے طوافِ وداع کے لیے تمام ضروری احتیاطی اقدامات اور انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور ہم مسجدالحرام میں حجاج کے خیرمقدم کے لیے تیار ہیں۔‘‘

کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حج کے دوران میں حجاج کرام کے مسجدالحرام میں داخلے کے لیے ابواب مخصوص کیے گئے ہیں۔ وہ ان کے علاوہ کسی اور دروازے سے اندر نہیں جاسکتے۔حجاج کے لیے مطاف میں چکر اور راستے متعیّن کر دیے گئے ہیں اور وہ سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے گروپوں کی شکل میں طوافِ وداع کریں گے۔

سعودی عرب نے اس مرتبہ کرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظرحج کو محدود کردیا تھا اور صرف دس ہزار خوش نصیبوں نے فریضۂ حج ادا کیا ہے۔ سعودی حکومت نے ان عازمینِ حج کا انتخاب ایک خودکار طریقے سے کیا تھا اور منتخب حاجیوں میں سعودی عرب میں مقیم غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد 70 فی صد ہے اور 30 فی صد سعودی شہری ہیں۔

منتخب سعودی شہریوں میں محکمہ صحت کے ان ورکروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ترجیح دی گئی ہے جو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں خود بھی اس مہلک وَبا کا شکار ہوگئے تھے مگر بعد میں صحت یاب ہوگئے تھے۔