.

یو اے ای:وزیر صحت کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے والے پہلے اعلیٰ عہدہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر صحت عبدالرحمٰن الاویس کو ہفتے کے روز کووِڈ-19 سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔ وہ چھے روز پہلے منظورشدہ اس ویکسین کو لگوانے والے پہلے اعلیٰ حکومتی عہدہ دار ہیں۔اماراتی حکومت نے گذشتہ سوموار کو کووِڈ-19 کے علاج اور اس سے بچاؤ کے لیے ملک میں تیار کردہ اس ویکسین کے استعمال کی ہنگامی بنیاد پر منظوری دی تھی۔

یو اے ای کی کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق وزیر صحت الاویس نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ’’ویکسین فی الوقت کووِڈ-19 کی وَبا کے خلاف جنگ میں ہمارے صفِ اوّل کے دفاعی ہیروز کے لیے دستیاب ہوگی کیونکہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران میں اس وائرس کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’یہ ویکسین مکمل طور پر قوانین اور قواعد وضوابط سے مطابقت کی حامل ہے۔‘‘انھوں نے واضح کیا کہ ’’حکام کرونا وائرس کے خلاف محاذِ اوّل پر موجود ورکروں کو کسی بھی خطرے سے بچانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے اس وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔‘‘

وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ ’’یہ ویکسین مؤثر ہے،اس نے مرض کے خلاف’’بھرپور مدافعتی ردعمل‘‘ کا اظہارکیا ہے۔جن رضاکاروں پر اس کی آزمائش کی گئی ہے، ان میں اس نے مدافعتی نظام ( اینٹی باڈیز) کو پیدا کیا ہے۔‘‘

ان کے بہ قول ’’اس ویکسین کے نتائج کے جائزے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ استعمال کے لیے بالکل محفوظ ہے۔‘‘

واضح رہے کہ یو اے ای میں مقیم 125 ممالک سے تعلق رکھنے والے 31 ہزار رضاکاروں پر اس ویکسین کی کلینکی آزمائش کی گئی ہے۔یو اے ای کی وزارتِ صحت کی اعلیٰ عہدہ ڈاکٹر نوال الکعبی نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک ہزار رضاکاروں میں کرونا وائرس کی علامات پائی جاتی تھیں لیکن جب انھیں یہ ویکسین لگائی گئی تو ان میں کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس ویکسین کے آزمائشی مرحلے میں ابتدائی نتائج ’’حوصلہ افزا‘‘ رہے ہیں اور رضاکاروں میں صرف معمولی ضمنی اثرات کی تشخیص ہوئی ہے مگر کسی قسم کے ایسے سنگین نوعیت کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں جن کی وجہ سے فوری طبی علاج کی ضرورت پیش آتی۔‘‘

نوال الکعبی کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کے حکام نے ویکسین کے کارآمد اور مؤثر ہونے کو یقینی بنانے کے لیے کوالٹی کنٹرول کے طریق کار اور تحفظ کے معیارات پر عمل درآمد کیا ہے۔