جنرل اسمبلی میں روحانی کا خطاب گمراہ کن ہے : اقوام متحدہ میں امریکی سفیر
امریکا نے منگل کی شام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر حسن روحانی کے خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکا کی خاتون مندوب ایمبیسڈر کیلی کرافٹ نے بدھ کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ روحانی کی باتیں محض دھوکا دینے اور گمراہ کرنے کا مظاہرہ تھا۔
The Iranian president’s #UNGA speech today was a tour de force of dishonesty. He spoke of “blatant and gross” violations of the @UN Charter, but apparently with no sense of irony. Iran is the world’s leading sponsor of terrorism & fuels conflict across the Middle East. #hypocrisy
— Ambassador Kelly Craft (@USAmbUN) September 22, 2020
ایرانی صدر کی جانب سے امریکا پر اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کے الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے کیلی نے تمسخر آمیز انداز میں کہا کہ "ایسا لگ رہا ہے کہ روحانی مذاق نہیں فرما رہے تھے! ... دنیا میں دہشت گردی کا اہم ترین سرپرست اور سپورٹر تو ایران ہے ، اس نے مشرق وسطی میں تنازعات کو جنم دیا"۔
اس سے قبل منگل کی شام حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے اپنے وڈیو پیغام میں کہا کہ "ایران نہ تو امریکی انتخابات اور نہ اس کی داخلہ پالیسی میں سودے بازی کا کارڈ ہے ... امریکی انتخابات کے بعد کسی بھی امریکی انتظامیہ کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہ ہوگا کہ وہ ایرانی عوام کی استقامت کے سامنے ہتھیار ڈال دے"۔
روحانی کے مطابق ان کے ملک پر "نہ مذاکرات نہ جنگ" کا فارمولا مسلط کرنا امریکا کے بس کی بات نہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مئی 2018ء میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کر دیا اور ایران پر یک طرفہ طور سے دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت کی کمر توڑ دی۔
گذشتہ روز بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "ہم نے ایران کے جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کی اور دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرست ملک پر کارگر پابندیاں عائد کیں"۔