.

ترکی کی آرمینیا سے لڑائی میں آذربائیجان کی مکمل حمایت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے آذر بائیجان کی آرمینیا کے خلاف لڑائی میں مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور آرمینیا پر زوردیا ہے کہ وہ جارحیت سے باز آجائے۔

آذر بائیجان سے الگ ہونے والے علاقے ناگورنو قرا‌باغ میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان اتوار کو شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم اپنے آذربائیجانی بھائیوں کی ان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی جنگ میں تمام ذرائع سے مدد کریں گے۔‘‘

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان عشروں سے متنازع علاقے ناگورنو قرا‌باغ پر تنازع جاری ہے اور آج دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان 2016 کے بعد پہلی مرتبہ شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ترکی کے آذر بائیجان کے ساتھ تاریخی ، ثقافتی اور لسانی تعلقات استوار ہیں۔

ترکی اور آرمینیا میں تنازع

ترکی کے آرمینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے میں عثمانی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے مبیّنہ قتل عام پر تنازع چلا آرہا ہے۔ آرمینیا اس کو نسل کشی قرار دیتا ہے۔

ترک وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’’قفقاز میں امن واستحکام کی راہ میں آرمینیا کی جارحیت حائل ہے۔وہ اس جارحیت سے دستبردار ہوجائے ورنہ پورا خطہ آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالین نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’آرمینیا نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔اس نے ایک مرتبہ پھر یہ ظاہر کردیا ہے کہ اس کو امن اور استحکام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

انھوں نے ایک ٹویٹ میں عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ اس خطرناک جارحیت کو رکوائے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’’ آذر بائیجان تنہانہیں،اس کو ترکی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔‘‘

ترک وزارت خارجہ نے آذربائیجان کو ہر طرح کی مدد مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جس طرح کی مدد چاہتا ہے،اس کو مہیا کی جائے گی۔

دریں اثناء ترک وزیرخارجہ مولود شاوس اوغلو نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری بحران کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔