.

آرمینیا-آذربائیجان میں جنگ بندی کے مطالبے بے معنی ہیں: ترک وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چائوش اوغلو آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری تنازعے میں آذر حکومت کی حمایت کے لئے دارالحکومت باکو پہنچ گئے ہیں۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنو قراباغ کے علاقے پر حکمرانی کو لے کر تنازعہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے جس میں سب سے حالیہ معرکہ 27 ستمبر کو شروع ہوا ہے جس میں اب تک کئی فوجی اور شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیموں اور ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ترک وزیر خارجہ مولود چائوش اوغلو نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی اور معاہدے کے مطالبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے جنگ بندی کے نتیجے میں آرمینیا نے آذربائیجان کی زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔انہوں نے بین الاقوامی برادری سے آذربائیجان کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔

چائوش اوغلو نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیھون بیراموف سے ملاقات کے بعد کہا کہ "چلیں فرض کریں جنگ بندی ہوجاتی ہے۔ پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا آرمینیا سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ آذربائیجان کی حدود سے باہر نکل جائے؟ یا آپ آرمینیا کو نکال باہر کرنے کے لئے کوئی حل تلاش کریں گے؟ ہم نے ہمیشہ سے پر امن حل کی کوششوں کی حمایت کی ہے مگر آرمینیا نے گزشتہ 30 سال سے آذربائیجان کی اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔"

آذربائیجان کے صدر الھام علییف نے ترک وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد ترکی کی جانب سے حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

علییف کے مطابق "ترکی کی حمایت سے ہمیں تقویت ملی ہے اور خطے میں امن اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔"