.

مصری صدر نے یونان کے ساتھ بحرمتوسط کی حدبندی کے سمجھوتے کی توثیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے یونان کے ساتھ بحر متوسط کی حد بندی سے متعلق میری ٹائم سمجھوتے کی توثیق کردی ہے۔اس کے تحت بحر متوسط میں تیل اور گیس کی دریافت سے متعلق خصوصی اکنامک زون کی حد بندی کی گئی ہے۔

مصر اور یونان میں طے شدہ اس سمجھوتے کو ترکی اور لیبیا کی قومی حکومت کے درمیان مشرقی بحرمتوسط سے متعلق ڈیل کا ردعمل قرار دیا جارہا ہے۔اس ڈیل کے تحت ترکی کو بحرمتوسط کے مشرقی علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش اور انھیں نکالنے کے حقوق تفویض کر دیے گئے ہیں۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی کے توثیقی دست خط کے بعد اس سمجھوتے کو ہفتے کے روز سرکاری گزٹ میں شائع کردیا گیا ہے۔مصر اور یونان کے درمیان دوماہ قبل اگست میں یہ سمجھوتا طے پایا تھا اور اس پر قاہرہ میں مصر اور یونان کے وزرائے خارجہ نے دست خط کیے تھے۔

اس سمجھوتے کے تحت مصر اور یونان کے درمیان بحری حدود کی جزوی حد بندی کی گئی ہے اور مزید حد بندی دونوں ملکوں کے حکام کی باہمی مشاورت سے کی جائے گی۔

مصری پارلیمان کے اسپیکر علی عبدالعال نے اگست میں یونان کے ساتھ اس سمجھوتے کو بڑی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا جبکہ ترکی نے اس کو بے معنی قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

دوسری جانب مصر، قبرص اور یونان نے ترکی اور طرابلس کی حکومت کے درمیان میری ٹائم ڈیل کو مسترد کردیا تھا اور اس کو گیس کی دولت سے مالا مال بحر متوسط میں اپنے اقتصادی حقوق کی خلاف ورزی اور ان میں دراندازی قرار دیا تھا۔

دریں اثناء ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مصر اور یونان کے درمیان سمجھوتے کو ’’بے قدر و قیمت‘‘ قرار دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ طرابلس حکومت کے ساتھ اپنے متنازع معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھیں گے۔