پیرو: 7 ماہ کے انتظار کے بعد تاریخی قلعے کو ایک سیاح کے لیے کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پیرو میں حکام نے تاریخی قلعے Machu Picchu کے آثار کو ایک جاپانی سیاح کے لیے کھول دیا۔ مذکورہ سیاح پیرو کے بہترین سیاحتی مقام کے طور پر شمار ہونے والی اس جگہ میں داخلے کے لیے تقریبا سات ماہ سے منتظر تھا۔

پیرو کے وزیر ثقافت الیخاندرو نیرا نے پیر کے روز بتایا کہ جاپانی شہری جیسی کاتایاما کرونا کی وبا پھیل جانے کے باعث رواں سال مارچ سے پیرو کے قصبے اجواس کلینٹس میں پھنسا ہوا تھا۔ وہ صرف تین روز کے لیے علاقے میں آیا تھا تاہم اسی دوران پیرو کی حکومت نے وبائی مرض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے مقصد سے ملک میں طبی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے نتیجے میں تمام بین الاقوامی پروازیں بھی معطل ہو گئیں اور کاتایاما اپنے وطن جاپان نہیں لوٹ سکا۔

وزیر ثقافت نے انٹرنیٹ کے ذریعے منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ "جیسی کاتایاما اپنا خواب پورا کرنے کے لیے پیرو آیا تھا... اب سات ماہ بعد وہ اپنے وطن واپسی سے قبل اس تاریخی صحت افزا مقام کے مالک کے ہمراہ یہاں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا"۔

تاکایاما 500 برس سے زیادہ عرصہ پہلے تعمیر کیے گئے اس تاریخی قلعے میں ہفتے کے روز داخل ہوا۔ وہ سات ماہ میں پہلا سیاح ہے جو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل اس قلعے کے اندر گھومنے پھرنے میں کامیاب ہوا۔

جاپانی سیاح نے ماچو پیچو قلعے میں ایک پہاڑ کی چوٹی پر ریکارڈ کیے گئے وڈیو کلپ میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا "یہ نہایت شان دار ہے ! آپ لوگوں کا شکریہ!"

پیرو کے وزیر ثقافت کے مطابق پتھروں کے اس قلعے کو سیاحوں اور عام لوگوں کے لیے آئندہ ماہ نومبر میں پھر سے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ معمول کی مجموعی گنجائش (675 افراد) کے صرف 30% کو روزانہ قلعے کا دورہ کرنے کی اجازت ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں