.

سوڈان کے مرکزی بنک سے امریکا میں بم دھماکے کے متاثرین کو معاوضے کی رقوم منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے مرکزی بنک نے سابق صدر عمر حسن البشیر کے دور حکومت میں جنگجوؤں کے حملوں میں ہلاک شدہ امریکیوں کے لواحقین اور زخمیوں کو ہرجانے کے طور پر رقوم منتقل کردی ہیں۔

سوڈان کے مرکزی بنک کے گورنر محمد الفتح زین العابدین نے منگل کے روز بتایا ہے کہ متاثرہ امریکیوں کو مجموعی طور پر ساڑھے 33 کروڑ ڈالر ادا کیے گئے ہیں۔

امریکا نے سوڈان کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کرنے کے لیے ہرجانے کے طور پر یہ رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان اس ضمن میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت سوڈان نے یہ رقم ادا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

اس پیش رفت سے ایک روز قبل ہی یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سوڈان کے ساتھ ایک اور سمجھوتا طے پانے کے قریب تر ہے۔اس کے تحت سوڈان کا نام امریکا کی دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والے ممالک کی فہرست میں سے حذف کردیا جائے گا۔

دو امریکی عہدے داروں نے سوموار کو بتایا کہ اس ضمن میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آیندہ چند روز میں اعلان متوقع ہے۔ان میں سے ایک عہدے دار نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا تھا کہ اگر اس ضمن میں کوئی سمجھوتا طے پاجاتا ہے تو پھر سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار ہوگی لیکن ہنوزاس مجوزہ سمجھوتے کی تفصیل طے کی جارہی ہے۔

اگراسرائیل کا ایک اور عرب ملک سوڈان کے ساتھ امن معاہدہ طے پاجاتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کو امریکا میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔