فرانس میں تین افراد کے قاتل تونسی کی تازہ تصویر اور معلومات
گذشتہ بدھ کو فرانس کے شہرنیس میں واقع تاریخی چرچ نوٹراڈیم کے قریب تین افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے والا شخص اس وقت ایک مقامی اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ اکیس سالہ ملزم ابراہیم عویساوی کی تازہ تصاویر اور کچھ نئی معلومات بھی سامنے آئی ہیں۔
تونس میں العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا کہ اس کی تازہ تصویر اٹلی کے ایک قرنطینہ مرکز میں لی گئی تھی جہاں وپہ 9 اکتوبر کو داخل ہوا تھا۔
تونسی عدالتی ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ ابراہیم کو چاقو کے ذریعے حملے کے الزام میں 2016ء کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت کی عمر 17 سال تھی۔
عدالت کے ترجمان محسن الدالی نے بتایا کہ ملزم کو تشدد کے الزام میں چار سال پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم کم عمر ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ عویساوی نے نوٹراڈیم چرچ میں گھس کر وہاں پر موجود ایک خاتون کو ذبح کیا۔ ملزم کے بیگ سے دو موبائل فون، متعدد چاقو جنہیں استعمال نہیں کیا گیا تھا، قرآن پاک اور کچھ دوسری چیزیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ابراہیم 20 ستمبر کو اٹلی کے لامبیڈوسیا جزیرے پر پہنچا جہاں سے وہ پارے شہر منتقل ہوا۔ وہاںپر پولیس نے اسے گرفتار کیا تاہم یہ معلوم نہیں کہ اسے کیسے رہا کیا گیا۔ وہاں سے وہ 9 اکتوبر کو فرانس میں داخل ہوا اور 29 اکتوبر کو اس نے نیس شہر میں تین افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا۔
-
نیس حملے کی ذمہ داری ’’نامعلوم‘‘ گروپ نے قبول کرلی، تونس حکومت کا تحقیقات کا فیصلہ
دو روز قبل فرانس کے شہر نیس میں ایک چرچ کے قریب تین افراد کو قتل اور متعدد کو زخمی ...
بين الاقوامى -
نیس کے تونسی حملہ آور نے اہل خانہ کو چرچ کے سامنے سے تصویر بھیجی تھی
فرانس کے شہر نیس میں نوترے ڈیم چرچ کے نزدیک چاقو سے حملہ کرنے والے نوجوان ابراہیم ...
مشرق وسطی -
فرانس : نیس میں چاقو سے حملہ کرنے والے تونسی نوجوان کی پہلی تصویر
فرانس کے شہر نیس میں نوترے ڈیم کے تاریخی چرچ کے نزدیک تونسی نوجوان ابراہیم ...
مشرق وسطی