.

سابق لبنانی وزیر خارجہ جبران باسیل پر امریکی پابندیوں کی لٹکتی تلوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ لبنان کے سابق وزیر خارجہ جبران باسل پر پابندیاں عائد کرے گی۔ ان پابندیوں کا اعلان آج جمعے کے روز متوقع ہے۔ یہ بات واشنگٹن میں العربیہ کی رپورٹر نے ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے۔

امریکی اخبار Wall Street Journal کے مطابق لبنان کے سابق عہدے دار پر پابندیوں کا مقصد لبنانی حکام پر ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے نفوذ پر روک لگانا ہے۔ اخبار نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزارت خزانہ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے ان پابندیوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ جبران باسل لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے مسیحی حلیفوں میں سے ہیں۔ وہ لبنانی صدر کے داماد اور 2015ء سے "فِری پیٹریاٹک موومنٹ" کے سربراہ ہیں۔ جبران کی پیدائش 1970ء میں ہوئی۔ وہ 1999ء میں لبنان کے موجود صدر میشیل عون کی بیٹی شانتال میشیل عون کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

وہ ایک بار وزیر مواصلات جب کہ دو، دو بار توانائی اور امور خارجہ کے وزیر مقرر ہو چکے ہیں۔

امریکا نے ستمبر 2019ء میں لبنان کے دو سابق وزراء کو بلیک لسٹ کیا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان دونوں شخصیات نے ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کی مدد کی تھی۔

تقریبا دو ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شینکر نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن "حزب اللہ ، اس کے لبنانی حلیفوں اور بدعنوانی میں ملوث عناصر پر پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا"۔ مختلف ممالک کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شینکر کا کہنا تھا کہ "ہم لبنانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ لبنان میں کوئی بھی حکومت مکمل شفافیت اور اصلاحات کے ساتھ آئے۔ لبنانی عوام کا بھی یہ ہی مطالبہ ہے کہ بدعنوانی اور دیگر جرائم کے مرتکب عناصر کا احتساب کیا جائے"۔

امریکی وزیر خارجہ کے معاون نے واضح کیا کہ "لبنان کے لیے امداد پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کے واسطے یہ ہماری پیشگی شرائط ہیں۔ ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ لبنانی عوام کی جائز امیدوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔ رہی بات یہ کہ حکومت کی سربراہی کون سنبھالے تو اس کا فیصلہ صرف لبنانی عوام کو کرنا ہے"۔

شینکر کے مطابق لبنان کو غربت اور بدعنوانی کے انسداد کے لیے اقتصادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ، اس لیے کہ لبنان میں عام قرضوں کی صورت حال ابتر ہے"۔