.

یورپی یونین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی صدارتی انتخابات میں جیت پر جو بائیڈن کو مبارکباد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے اعلان پر عالمی سطح پر ردعمل جاری ہے۔ یورپی یونین، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور دوسرے ممالک کی قیادت نے جو بائیڈن کی کامیابی کا خیر مقدم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انتخابی جیت پر مبارک باد پیش کی ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکی میڈیا میں جو بائیڈن کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے دی ہے۔

یورپی کونسل کے صدر نے جو بائیڈن کو مبارکباد پیش کی اور مضبوط ٹرانزلانٹک شراکت میں شامل ہونے کے لیے یورپی یونین کی تیاری کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ ہفتے کے روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جو بائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہونے اور کمالا ہیرس کو نائب صدر بننے پر مبارک باد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی تاریخی فتح ہے۔

جانسن نے ٹویٹ کی کہ امریکا ہمارا سب سے ممتاز حلیف ہے۔ میں موسمیاتی تبدیلی سے لے کر تجارت اور دفاع تک اپنی مشترکہ ترجیحات پر قریبی تعاون کرنے پر جوش ہوں۔

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے جو بائیڈن کو امریکی صدارتی الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی اور ان سے موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔

فرانسیسی صدر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ امریکیوں نے اپنے صدر کا انتخاب کیا ہے۔ جو بائیڈن اور کمالا ہیرس کو مبارکباد! ہمیں موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ آئیے مل کر کام کریں"۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے ہفتے کی شام جو بائیڈن کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں اس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔

جرمنی کے چانسلر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں واشنگٹن کے ساتھ پیچیدہ تعلقات سے دوچار ہیں ہوئے ہیں مگر میں‌ جو بائیڈن کی کامیابی سے پر جوش اور پرامید ہوں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے جو بائیڈن کو امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئےکہا کہ بائیڈن نیٹو اتحاد کے مضبوط حامی ہیں۔ ہم ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر جوش ہیں۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ میں جو بائیڈن کو جانتا ہوں، وہ ہمارے اتحاد کا ایک مضبوط حامی ہیں اور میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر جوش ہوں۔ ایک مضبوط امریکا شمالی اوقیانوس کے فوجی اتحاد کے ساتھ ساتھ یورپ کے لیے بھی اچھا ہے۔ اس اتحاد کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بار بار تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔