.

برطانیہ کا یورپی یونین سے ’’بریگزٹ‘‘ کے لیے تجارتی معاہدہ طے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا کے لیے تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے ۔اس طرح اس کی یورپ کے سب سے بڑے تجارتی بلاک سے اخراج کے لیے ’بریگزٹ‘ ڈیل مکمل ہوگئی ہے۔

لندن میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ’’ڈیل طے ہوچکی ہے۔ہم نے اپنی رقم ، سرحدوں ، قوانین ،تجارت اور ماہی گیری کے لیے اپنے پانیوں کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔‘‘

اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ’’ڈیل برطانیہ کے تمام حصوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں اور کاروباروں کے لیے ایک زبردست خبر ہے۔ہم نے پہلے آزاد تجارت کے سمجھوتے پر دست خط کردیے ہیں۔یہ صفر ٹیرف پر مبنی ہے،اس میں کوئی کوٹا بھی نہیں ہوگا۔یہ یورپی یونین سے طے پانے والی ایک منفرد ڈیل ہے۔‘‘

اس ڈیل کے تحت برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک کسی قسم کے ٹیرف اور کوٹے کے بغیر دوطرفہ تجارت جاری رکھ سکتے ہیں۔تاہم اس نمایاں پیش رفت کے باوجود برطانیہ اور27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے درمیان مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کے بارے میں غیریقینی کی صورت حال ہے اور یہ نہیں طے ہوسکا ہے کہ ان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کیسے استوار ہوں گے۔

اس نئے سمجھوتے کی برطانیہ اور یورپی یونین کی پارلیمان سے منظوری ضروری ہے۔تاہم یکم جنوری کو برطانیہ کے یورپی یونین سے باضابطہ اخراج کے بعد یورپی پارلیمان میں اس پرشاید رائے شماری نہ ہو۔

یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان متنازع امور طے کرنے کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے مذاکرات جاری تھے اور ان کے درمیان درج ذیل تین امور پر اختلافات پائے جاتے تھے:شفاف مسابقتی قواعد وضوابط ،مستقبل میں جنم لینے والے تنازعات کو طے کرنے کا میکانزم اور ماہی گیری کے حقوق۔ یورپی یونین کی کشتیوں کی برطانیہ کے پانیوں میں مچھلی کے شکار کے لیے آمد سے متعلق اختلافات پائے جاتے تھے اور اب اس آخری رکاوٹ کو بھی دور کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس بات پرمُصر رہے ہیں کہ اگر کوئی تجارتی معاہدہ طے نہیں ہوتا ہے تو پھر برطانیہ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے شرائط وضوابط کے مطابق یورپی یونین کے ساتھ تجارت کرے گا لیکن ان کی حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اگر کسی سمجھوتے کے بغیر تنظیم سے انخلا ہوا تو پھربرطانوی بندرگاہوں پر تعطل کی سی صورت حال پیدا ہوجائے گی اور بعض ضروری اشیاء کی ملک میں قلّت پیدا ہوجائے گی۔

یورپی یونین ایک عرصے سے اس خدشے کا اظہار کررہی ہے کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ اس کے سماجی ، ماحولیاتی اور ریاستی امداد سے متعلق قواعد وضوابط کو ختم کرسکتا ہے جبکہ برطانیہ کم زور معیارات کو اپنانے کی تردید کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ یورپی یونین کے قواعد وضوابط کی پیروی کرتا ہے تو اس سے اس کی خود مختاری کو نقصان پہنچے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں