.

ٹویٹر، فیس بک کے بعد انسٹا گرام وسنیپ چیٹ نے بھی ٹرمپ کے ہاتھ باندھ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا دکھائی آتا ہے کہ امریکی عوام کے بعد اب سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گردن ناپنا شروع کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ٹرمپ پر عائد کیے گئے اس الزام کے بعد سامنے آ رہی ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز واشنگٹن میں کیپٹول کی عمارت کے احاطے میں پیش آنے والے پر تشدد واقعے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

ٹویٹر اور فیس بک کے بعد انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے بھی جمعرات کے روز اس پلیٹ فارم پر ٹرمپ کا اکاؤنٹ 24 گھنٹوں کے لیے معطل کر دینے کا اعلان کیا ہے۔ موسیری کے مطابق انسٹاگرام پر ٹرمپ کا اکاؤنٹ پورے ایک دن کے لیے بند رہے گا۔

ادھر سنیپ چیٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ریپبلکن صدر کا اکاؤنٹ عارضی طور پر بند کر رہا ہے۔

اس لیے فی الوقت اور آئندہ گھنٹوں کے دوران دوسروں سے رابطے کے لیے ٹرمپ کے پاس صرف روایتی وسائل ہوں گے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے لیے اپنے حامیوں سے رابطے کا طاقت ور ترین ذریعہ ٹویٹر رہا ہے جہاں ان کے فالوورز کی تعداد 8.5 کروڑ سے زیادہ ہے۔

اس سے قبل فیس بک نے اعلان کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 24 گھنٹوں تک اپنے اکاؤنٹ پر کوئی پوسٹ نہیں کر سکیں گے۔ ساتھ ہی ان سابقہ پوسٹوں کو بھی حذف کر دیا گیا ہے جو بالواسطہ طور پر ان کے حامیوں کے لیے کیپٹول کی عمارت میں داخلے کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنیں۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔

ٹویٹر نے ٹرمپ کی تین ٹویٹس اور وڈیو ہٹا دینے کے بعد 12 گھنٹوں کے لیے امریکی صدر کا اکاؤنٹ معطل کر دیا تھا۔ ٹویٹر میں ٹرانسپیرنسی سیکشن کے نائب سربراہ Guy Rosen کا کہنا ہے کہ "ہم نے وڈیو کلپ کو ہٹا دیا کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تشدد کم کرنے کے بجائے اس کے خطرے کو مسلسل بڑھا رہا ہے"۔

دوسری جانب فیس بک کے ذمے داران نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہمیں کیپٹول کی عمارت میں تشدد کے واقعات پر دھچکا پہنچا"۔