.

آپ کا خطاب کیپٹول پر دھاوے کے حوالے سے اثر انداز ہوا : مستعفی وزیر کا ٹرمپ کو خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت میں خاتون وزیر ٹرانسپورٹ ایلن چاؤ کے مستعفی ہونے کے بعد خاتون وزیر تعلیم بیٹسی ڈیووس نے بھی اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ دونوں وزرا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے بدھ کے روز کیپٹول کی عمارت پر دھاوے کے واقعے کے بعد اپنے منصبوں سے سبک دوشی اختیار کی۔

مستعفی وزیر تعلیم بیٹسی ڈیووس نے ٹرمپ کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ "اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کا خطاب صورت حال پر اثر انداز ہوا ،،، اور یہ میرے لیے ٹرننگ پوائنٹ تھا"۔

جمعے کے روز اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بیٹسی نے واضح کیا کہ "اقتدار کی پر امن منتقلی ہی امریکا کی جمہوریت کو Banana Republics سے امتیازی حیثیت دیتی ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ایسی مثال پیش کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنے ،،، ہم ان کے لیے ایک ایسے شہری کا نمونہ پیش کریں جو فرائض اور قانون کا احترام کرتا ہے"۔

مستعفی خاتون وزیر کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی غضب نام گروپ کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کیپٹول کی عمارت پر دھاوا بولے اور منتخب صدر کی جیت کی توثیق کے لیے ہونے والی رائے شماری میں تعطل پیدا کرنے۔ ہمیں ہر قسم کے پر تشدد واقعات پر روک لگانا ہو گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کے حامیوں کی طرف سے کانگرس کی عمارت پر دھاوے اور ہنگامہ آرائی کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد ذمے داران اپنے منصبوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان میں وائٹ ہاؤس اور امریکی انٹیلی جنس کے عہدے داران شامل ہیں۔