.

سعودی دارالحکومت الریاض کاجلد دنیا کے 10 بڑے شہروں میں شمارہوگا:ولی عہد شہزادہ محمد

الریاض میں دنیا کا سب سے بڑا صنعتی شہر قائم کیا جائے گا،شہری خدمات اور ڈھانچے کو ترقی دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دارالحکومت الریاض کو دنیا کے معاشی اعتبار سے دس بڑے شہروں میں شامل کرنے کے لیے ایک وسیع تر حکمت عملی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ الریاض کو جدید ترقی یافتہ شہر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پرعمل درآمد کیا جائے گا۔

وہ جمعرات کو الریاض میں منعقدہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس کے دوسرے روز اظہار خیال کررہے تھے۔’’نشاۃ ثانیہ نو‘‘ کے عنوان سے اس دو روزہ کانفرنس میں دنیا کے 94 ممالک سے تعلق رکھنے والے 8000 وفود یا نمایندوں نے بہ نفس نفیس یا آن لائن شرکت کی ہے۔

سعودی ولی عہد نے فورم میں سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے تحت الریاض اورخطے بھر کے لیے حکمتِ عملی سے متعلق تفصیل سے اظہارخیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ الریاض میں دنیا کے سب سے بڑے صنعتی شہر کے قیام کے لیے بھی ایک بڑے منصوبہ کا اعلان کیا جائے گا۔

شہزادہ محمد نے کہا:’’الریاض کے شہری ڈھانچے کو ترقی دی جائے گی اورشہریوں کے معیارِزندگی کو بہتر بنایاجائے گا تاکہ اس کو دنیا کے دس بڑے شہروں میں شمار کیا جاسکے۔اس وقت یہ دنیا کا معاشی ترقی کے اعتبار سے چالیسواں بڑا شہر شمار ہوتا ہے۔‘‘وہ اٹلی کے سابق وزیراعظم اور سینیٹر ماٹیو رینزی کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم الریاض کے باسیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔اس وقت اس کے مکینوں کی تعداد 75 لاکھ ہے۔ ہم 2030ء تک یہ تعداد بڑھا کر ڈیڑھ سے دو کروڑنفوس تک کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم الریاض کو معیار زندگی ،سیاحت اور خدمات کے ضمن میں بھی دنیا کے سب سے مشہور شہروں میں سے ایک بنانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے شہر کی موجودہ معاشی صورت حال کے بارے میں بتایا کہ اس وقت سعودی عرب کی بغیر تیل معیشت میں الریاض کا حصہ 50 فی صد ہے۔اس میں دوسرے شہروں کے مقابلے میں نئی ملازمت تخلیق کرنے کی لاگت 30 فی صد کم ہے۔اسی طرح تعمیراتی ڈھانچے اور رئیل اسٹیٹ کی ترقی کی لاگت دوسرے سعودی شہروں کے مقابلے میں 29 فی صد کم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’الریاض کا انفرااسٹرکچر شاہ سلمان کے گذشتہ 55 سال کے کاموں کی بدولت بالکل منفرد اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے (پہلے گورنر اور پھر شاہ کی حیثیت سے) شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کے شہر کو 75 لاکھ نفوس پر مشتمل ایک میٹرو پولیٹن شہر بنا دیا ہے۔اس بنا پر الریاض میں ترقی کے شاندار مواقع موجود ہیں۔یہاں صنعت وسیاحت کو بے پایاں ترقی دی جاسکتی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ’’اس میں کوئی شک نہیں،دنیا کی معیشتوں کا انحصار ملکوں پر نہیں بلکہ شہروں پر ہے۔دنیا کی 85 فی صد معیشت اور معاشی سرگرمیوں کا تعلق شہروں سے ہے اور آیندہ چند سال میں یہ عدد بڑھ کر 95 فی صد ہوجائے گا۔‘‘

سعودی ولی عہد کے بہ قول’’حقیقی ترقی کا شہر سے آغاز ہوتا ہے، خواہ یہ صنعت ہو ، ایجادات ہوں ، تعلیم ، خدمات ، سیاحت یا دوسرے شعبوں ہوں، چناں چہ یہی وجہ ہے کہ ہم سعودی عرب میں شہروں پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں کیونکہ وہ ترقی کے ساماں کے حامل ہیں تاکہ ہم اقتصادی ترقی اور ملازمت میں اضافے کے اہداف بھی حاصل کرسکیں۔‘‘

دوروزہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس میں دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے 150 سے زیادہ مقررین نے اظہار خیال کیا ہے۔ان میں سے 90نے دنیا کے بڑے کاروباری مراکز پیرس ، ممبئی ، بیجنگ ، نیویارک اور دوسرے شہروں سے کانفرنس میں آن لائن شرکت کی ہے جبکہ 60 مقررین نے الریاض میں بہ نفس نفیس شرکت کی ہے۔یہ کانفرنس پہلے گذشتہ سال دسمبر میں منعقد ہونا تھی لیکن کرونا وائرس کی وَبا کی وجہ سے اس کو چند ہفتے کے لیے مؤخر کردیا گیا تھا۔