.

عرب اتحاد نےیمن کی فضائی حدود میں حوثیوں کابارود سے لدا ڈرون مارگرایا 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد نے جمعرات کے روز ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کا بارود سے لدا ایک ڈرون یمن کی فضائی حدود میں مارگرایا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈئر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ یہ ڈرون سعودی عرب کی جانب داغا گیا تھا مگر اس کا یمن کی فضائی حدود ہی میں سراغ لگا لیا گیا تھا۔

ترجمان نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ’’حوثی ملیشیا نے سعودی عرب میں شہریوں اورشہری اہداف کونشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ان کی یہ کارروائیاں اور فضائی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔‘‘

کرنل ترکی المالکی نے واضح کیا کہ عرب اتحاد بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق شہریوں کو تحفظ مہیا کرنے کے لیے آپریشنل اقدامات کررہا ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ ماہ یمن میں جاری تنازع کے خاتمے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان مصالحت کے لیے ایک نیا امن اقدام تجویز کیا تھا۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’ہم حوثیوں کو مذاکرات کی میزپر لانے اور ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی غرض سے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہرممکن اقدام کریں گے کیونکہ ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ لڑائی کے خاتمے اور سیاسی حل پر زور کے ذریعے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

لیکن ایران کے اتحادی یمنی حوثیوں نے اس امن پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔ انھوں نے گذشتہ دو ایک ماہ سے سعودی عرب کے شہروں اور شہری اہداف پرڈرون اور بیسلٹک میزائلوں سے حملے تیز کر رکھے ہیں۔

انھوں نے سات مارچ کو سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہ راس تنورہ پر متعدد ڈرونز سے حملہ کیا تھا اور مملکت کے مشرق میں واقع شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائل کے حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

لیکن سعودی فورسز نے ان میں سے بیشتر ڈرونز کو تباہ کردیا تھا۔سعودی حکام کے مطابق راس تنورہ کی بندرگاہ پر پیٹرولیم کے ایک ٹینک پر سمندر سے ڈرون داغا گیا تھا اور ظہران میں سعودی آرامکو کے اقامتی علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرے تھے۔

عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی گذشتہ ہفتے کے روز بحیرہ احمر میں حملے کی ایک سازش ناکام بنا دی تھی اور ان کی بارود سے لدی کشتی تباہ کردی تھی۔عرب اتحاد نے تب ایک بیان میں کہا تھاکہ ’’حوثی بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں اور انھوں نے بین الاقوامی تجارتی گذرگاہوں میں جہازوں کو مسلسل ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔‘‘