.

ایران اور اسرائیل کے درمیان بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی جنگ کا تازہ واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور ایران کے درمیان بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی ڈھکی چھپی جنگ کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ ہفتے کی شب شام کے ایک ساحل کے نزدیک پیش آیا۔

شامی حکومت کی وزارت تیل نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بانیاس ریفائنری کے نزدیک تیل بردار جہاز کے ایک ٹینک میں بھڑکنے والی آگ بجھانے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد ازاں وزارت نے اس بات کا عندیہ دیا کہ تیل بردار بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ خیال ہے کہ یہ حملہ لبنانی علاقائی پانی کی جانب سے ایک ڈرون طیارے کے ذریعے کیا گیا۔

اسی طرح Tanker Trackers سروس نے اتوار کو علی الصبح کی گئی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ مذکورہ تیل بردار جہاز ایرانی نہیں ہے بلکہ یہ بیروت میں رجسٹرڈ ہے۔ مزید یہ کہ جہاز کا نام Wisdom ہے۔ اس جہاز نے ایرانی تیل بردار ضخیم جہازARMAN 114 سے 3 سے 3.5 لاکھ بیرل تیل اتارنے میں مدد کی تھی۔

دوسری جانب عسکری تجزیہ کار ابراہیم الجباوی نے العربیہ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ بانیاس کے ساحل کے نزدیک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانا اسرائیل اور ایران کے درمیان "غیر تکلیف دہ" جنگ کا حصہ ہے۔ الجباوی کے مطابق ایسی معلومات ہیں کہ تیل بردار جہاز کے ٹینک میں ہتھیار موجود تھے۔

شام کے ساحلی شہر بانیاس میں تیل صاف کرنے والی ایک ریفائنری واقع ہے۔ دس برس سے جاری جنگ کے نتیجے میں شام کو پورے سال پٹرول اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے سبب حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔

علاوہ ازیں حالیہ برسوں میں شام کا ایرانی تیل کی کھیپوں پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ تاہم ایران ، شام اور ان کے حلیفوں پر مغربی پابندیوں کے سخت ہونے کے بعد مطلوبہ مقدار میں ترسیل کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔