ایرانی وزارت خارجہ نے جواد ظریف کی آڈیو درست ہونے کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اقرار کیا ہے کہ اتوار کے روز منظر عام پر آنے والی آڈیو ریکارڈنگ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی ہے۔ پیر کے روز ایک بیان میں خطیب زادہ نے کہا کہ ظریف کی آڈیو ریکارڈنگ خفیہ تھی اور اسے جاری کرنا غیر قانونی ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف آج عراق کے دورے پر دارالحکومت بغداد پہنچ گئے۔ وہ القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی جائے ہلاکت پر جائیں گے۔ دونوں افراد گذشتہ برس جنوری میں امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

اتوار کے روز سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگ میں محمد جواد ظریف نے انکشاف کیا کہ وزارت خارجہ میں وہ برائے نام وزیر خارجہ ہیں۔ خارجہ پالیسی میں ان کا کردار صفر ہے۔ جواد ظریف کا یہ انٹرویو موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد نشر کیا جائے گا۔ ایرانی حکومت کے حامی اقتصادی تجزیہ نگار سعید لیلاز کو دیے گیے تین گھنٹے کے انٹرویو میں جواد ظریف نے کہا کہ "میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں پوری طرح انجام نہیں دے سکا۔ سلیمانی سفارت کاری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے"۔ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ "میں جب شام یا دوسرے امور پر مذاکرات کے لیے روانہ ہوتا تو سلیمانی مجھ پر شرائط عائد کر دیتے۔ میں انہیں اپنی ضروریات اور سفارتی تقاضوں کے بارے میں قائل نہیں کر سکتا تھا"۔

یہ انٹرویو مارچ میں ریکارڈ کرایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں