.

سعودی عرب میں ضبط شدہ منشیات لبنان نہیں،شام میں پیک کی گئی تھیں:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ ہفتے نشہ آور کپتاگون کی ضبط کی گئی لاکھوں گولیوں کے بارے میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ یہ لاکھوں گولیاں پہلے شام میں پیک گئی تھیں، پھر انھیں لبنان بھیجا گیا تھا اور وہاں سے یہ سعودی عرب روانہ کی گئی تھیں۔

لبنان سے بھیجے گئے پھلوں میں انار کے ڈبوں میں سے ایمیفٹامائن کی گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔سعودی عرب نے اس واقعہ کے فوری بعد لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد پر پابندی عاید کردی تھی اور سعودی حکام نے لبنان سے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ سے بھیجے جانے والے سامان کا کڑا معائنہ نہیں کیا جاتا ہے۔اسمگلروں نے اس کاناجائز فائدہ اٹھایا اور انھوں نے سعودی عرب برآمد کیے جانے والے پھلوں کے ساتھ ممنوعہ دوا کی لاکھوں گولیاں بھی بیروت سے روانہ کردی تھیں۔

ان ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں پکڑے گئے کپتاگون کے تھیلے ایتان خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد اور آلِ سلیمان سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کے ملکیتی تھے۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ لبنان کے محکمہ کسٹمز نے اسمگلنگ کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے الزام میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی مشتبہ افراد شام اور ترکی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء لبنانی صدر میشیل عون نے سعودی عرب کی جانب سے سبزیوں اورپھلوں پرپابندی اور منشیات کی اسمگلنگ کے دھندے پر غور کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ اس میں لبنان کے وزیرصحت اور وزیرزراعت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے اور وہ ایک دوسرے کو واقعے کا ذمے دار قرار دے رہے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سعودی کسٹمز نے نشہ آوردوا کپتاگون کی 50 لاکھ سے زیادہ گولیاں اسمگل کرکے لانے کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔

کپتاگوں کو بالعموم میدان جنگ میں برسرپیکار جنگجواستعمال کرتے ہیں کیونکہ اس سے لڑائی میں مسلسل شریک رہنے سے ہونے والی تھکن دورہوتی ہے اور استعمال کنندہ کوآرام وسکون ملتاہے۔یہ نشہ آور ایمفیٹامائن پر مبنی ہے،لبنان میں اس کوبڑے پیمانے پر تیار کیاجاتا اورپھرغیرقانونی طور پر دوسرے ممالک میں اسمگل کردیا جاتا ہے۔

سعودی اعلامیے کے مطابق لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمدات پر پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی،جب تک لبنانی حکام منشیات کی اسمگلنگ کے منظم دھندے پر قابو پانے کی یقین دہانی نہیں کرادیتے اور اس ضمن میں وہ مناسب اور قابل اعتبار ضمانتیں فراہم نہیں کردیتے۔دوسری جانب لبنان نے سعودی عرب میں اپنی برآمدات پر پابندی کے نفاذ کے بعد منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے۔