.

غزّہ میں اسرائیل کے نئے حملے ، یہودی بستیاں فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اراضی میں حالیہ جارحیت کا سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیل نے پیر کو علی الصبح غزہ کی پٹی پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی جانب سے اسرائیلی شہروں کی سمت راکٹ داغنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے وحشیانہ بم باری میں اب تک 197 فلسطینی شہید اور 1235 زخمی ہو چکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں 58 بچے اور 34 خواتین شامل ہیں۔ دوسری جانب بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں ہونے والے پر تشدد واقعات میں 21 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ 4369 زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے جنگی طیاروں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک بار پھر حماس تنظیم کی زیر زمین سرنگوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ فوج کا کہنا ہے کہ حملے میں غزہ کی پٹی کے شمال میں تقریبا 15 کلو میٹر کی سرنگوں کو نقصان پہنچا۔

العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے ایک سرکاری کمپاؤنڈ کے اطراف 70 حملے کیے۔ اس کمپاؤنڈ کی عمارت میں غزہ پٹی میں وزارت داخلہ اور سیکورٹی فورسز کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ علاوہ ازیں حملے میں شارع الرشید، الشفاء ہسپتال اور تل الھو اور الزیتون کے علاقوں کے ارد گرد بھی بم باری کی گئی۔ کارروائی میں فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں غزہ شہر کے مختلف علاقوں س دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔

اس سے قبل اسرائیلی توپوں نے غزہ کی پٹی میں خان یونس اور دیگر علاقوں پر گولہ باری کی تھی۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی بم باری سے قبل فلسطینی گروپوں کی جانب سے غزہ کی پٹی کے اطراف واقع یہودی بستیوں پر راکٹ داغے گئے۔ اس دوران میں عسقلان اور بئر السبع کے علاوہ دو یہودی بستیوں اوفاکیم اور نیتفوت میں بھی خطرے کے سائرن سنے گئے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اتوار کی شام سات بجے سے لے کر پیر کی صبح سات بجے تک (12 گھنٹوں کے دوران میں) غزہ کی پٹی سے تقریبا 60 راکٹ اسرائیل کے اندر داغے گئے۔ ان میں 10 راکٹ غزہ کی پٹی میں ہی گر گئے جب کہ اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے درجنوں راکٹوں کو فضا میں تباہ کر ڈالا۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کا کہنا ہے کہ حماس تنظیم کی عسکری صلاحیتوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ اسرائیلی فوج پوری طاقت سے حماس کے خلاف سرگرم ہے۔ اسرائیلی وزیر کے مطابق غزہ کے لوگ حماس کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ، غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

اسرائیل کی چھوٹی سیکورٹی کابینہ نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے فائر بندی کے حوالے سے تجویز پر کوئی روشنی نہیں ڈالی۔

چند روز قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس میں حماس تنظیم کے رہ نما یحیی السنوار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ السنوار غزہ کی پٹی میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ ہیں۔ اس بات کی تصدیق اسرائیلی فوج نے کل اتوار کے روز جاری ایک بیان میں کی۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں بتایا گیا کہ السنوار کے گھر کے علاوہ فوج نے حماس تنظیم کے سینئر رہ نماؤں کے گھروں اور دفاتر کو بھی نشانہ بنایا۔ ان میں حماس کے سیاسی دفتر میں منصوبہ بندی کے سربراہ سماح سراجی ، غزہ شہر میں الزیتون بریگیڈ کا کمانڈر یوسف عبدالوہاب اور حماس میں عسکری انٹیلی جنس کا ذمے دار احمد عبدالعال شامل ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائے ادرعی کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میں غزہ کی پٹی میں حماس اور جہادِ اسلامی تنظیموں کے زیر انتظام 90 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں ہتھیاروں کے گوداموں، راکٹوں سے بکتربند گاڑیوں کو نشانہ بنانے والے گروپوں اور سائبر حملوں کے ذمے دار یونٹوں پر بم باری کی گئی۔