.

لبنانی سفیرسعودی وزارت خارجہ میں طلب، وزیرخارجہ کے شرمناک بیان پرسخت احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے الریاض میں متعیّن لبنانی سفیر کو منگل کے روز طلب کیا ہے اور ان سے لبنانی وزیرخارجہ شربل وہبہ کے مملکت اور دوسرے عرب ممالک کے بارے میں ’’شرمناک بیان‘‘ پر سخت احتجاج کیا ہے۔وزارتِ خارجہ کے حکام نے ایک احتجاجی مراسلہ بھی لبنانی سفیر کے حوالے کیا ہے۔

لبنانی وزیرخارجہ شربل وہبہ نے سوموار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔انھوں نے خلیجی عرب ممالک کو عراق اور اس کے ہمسایہ ملک شام میں داعش کے ظہور کا ذمے دار قراردیا ہے۔

انھوں نے الحرا ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’محبت ،بھائی چارے اور دوستی کے علمبردار ممالک ہمارے لیے داعش کو سامنے لائے تھے۔‘‘ لیکن انھوں نے براہ راست کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ’’وزارت خارجہ مملکت ،اس کے عوام اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے بارے میں ان (لبنانی وزیرخارجہ)کے توہین آمیز اور شرمناک بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔‘‘

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات سفارتی اقدارکے بالکل منافی ہیں اور یہ سعودی عرب اور لبنان کے درمیان استوار تاریخی تعلقات سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ان توہین آمیز ریمارکس کے دونوں برادرممالک کے درمیان تعلقات کے لیے مضمرات کے پیش نظر وزارتِ خارجہ میں جمہوریہ لبنان کے سفیر کو طلب کیا گیا ہے اور ان سے لبنانی وزیرخارجہ کے دشنام طرازی پر مبنی بیان کی مذمت کی گئی ہے اور اس ضمن میں ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا گیا ہے۔‘‘

لبنان کے صدر میشیل عون نے منگل کے روز ایک بیان میں کہاہے کہ وزیرخارجہ کے تنقیدی کلمات سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔انھوں نے یہ بیان جاری کرکے دراصل خلیجی عرب ممالک کے ساتھ مزید کشیدگی سے بچنے کی کوشش کی ہے کیونکہ یہی ممالک بحران کا شکارلبنان کو سب سے زیادہ مالی امداد بھی مہیا کرتے ہیں۔