.

مصر نے اسرائیل اور غزہ میں فائر بندی کو کس طرح ممکن بنایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں فائر بندی تک پہنچنے میں مصر نے بحیثیت ثالثی اہم کردار ادا کیا۔ مصر نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے بیچ ثالثی کے طور پر کامیاب ہونے کی خاطر اپنے سیاسی وزن کا پورا زور لگا دیا۔ ان کوششوں کا نتیجہ آج جمعے کو علی الصبح فائر بندی کے نافذ العمل ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔

غزہ کی پٹی اور اسرائیل میں یہ فائر بندی روز کی سنگین اور شدید ترین جارحیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ 2014ء کی جنگ کے بعد اب تک کی شدید ترین لڑائی ہے۔ اس دوران میں لوگوں کی بڑی تعداد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ، ان میں اکثریت فلسطینیوں کی ہے۔ غزہ پٹی کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو گیا۔ اس کی تعمیر نو کے لیے کروڑوں ڈالر درکار ہوں گے۔

مصری صدر عبدالفتاح السيسی نے جمعرات کی شام اپنے دو وفود اسرائیل اور فلسطینی اراضی بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔ یہ دونوں وفود جنگ بندی کا جائزہ لیں گے اور امن کی بحالی کے لیے آئندہ اقدامات کی نگرانی کریں گے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی
مصری صدر عبدالفتاح السیسی

السیسی باور کرا چکے ہ یں کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی تلاش کے حوالے سے مصر کا موقف ثابت قدمی مبنی ہے۔ اس موقف کے مطابق بین الاقوامی قرار دادوں کے مطابق ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہیے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے بیچ فائر بندی کے سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مصر کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا غزہ کی پٹی کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد اور معاونت پیش کرے گا۔

امریکی صدر جوبائیدن
امریکی صدر جوبائیدن

دوسری جانب مصری صدر السیسی نے آج جمعے کے روز علی الصبح کی جانے والی ٹویٹ میں امریکی صدر کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے مطابق جو بائیڈن نے غزہ میں فائر بندی اور بحالی امن کے لیے مصری منصوبے کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ السیسی نے ٹویٹ میں مزید لکھا کہ " تمام متحارب فریقین کے بیچ تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستے اپنانے کے حوالے سے (بائیڈن کے ساتھ) ہمارا ویژن موافقت رکھتا تھا۔ یہ چیز مصر اور امریکا کے درمیان تزویراتی تعلقات کی گہرائی کو ثابت کرتی ہے"۔

گذشتہ پیر کے روز مصری صدر نے غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے کام کے لیے کروڑ ڈالر پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ تعمیر نو کے منصوبے پر عمل درامد میں مصر کی متعلقہ کمپنیاں شریک ہوں گی۔

اس سے قبل مصر میں ناصر ملٹری اکیڈمی میں مشیر کے طور پر کام کرنے والے میجر جنرل ڈاکٹر ہشام الحلبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ کے حوالے سے مصر کے فیصلوں کے دو پہلو ہیں۔ ان میں پہلا انسانی اور دوسرا تزویراتی ہے۔

الحلبی کے مطابق انسانی پہلو پر تفصیلی روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ جب غزہ پٹی کو اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو مصر انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے آگے آتا ہے۔ الحلبی نے انکشاف کیا کہ تزویراتی پہلو غزہ میں امن و استحکام کی مضبوطی اور اسلحہ و گولہ بارود کی اسمگلنگ کے لیے سرنگوں کا سہارا لینے سے روکنے کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ مصری اور عرب قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ غزہ کے لوگوں کو بعض ممالک کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے سے روکا جائے، وہاں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور ان کے لیے ایک با عزت زندگی کو ممکن بنایا جائے۔

الحلبی نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر مصر کی مداخلت اور تعمیر نو سے ان سرنگوں کے بنائے جانے کے عمل میں کمی آئے گی جو مصر کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔