.

ایران کے دو بحری جہاز ممکنہ طور پر وینزویلا کی سمت گامزن، واشنگٹن کی کڑی نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی میڈیا نے اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے دو بحری جنگی جہازوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ خیال ہے کہ دونوں جہازوں کا رخ وینزویلا کی جانب ہے۔

انگریزی اخبار "پولیٹیکو" سے گفتگو کرتے ہوئے 3 با خبر افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بتایا ہے کہ "ایران کی ایک فریگریٹ اور ایک جہاز مکران اس وقت افریقا کے مشرقی ساحل کی پٹی پر جنوب کی سمت رواں دواں ہیں"۔ واضح رہے کہ مکران جہاز پہلے ایک تیل بردار جہاز تھا جس کو تیرتے ہوئے اڈے میں تبدیل کر دیا گیا۔

وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو
وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو

مذکورہ تینوں افراد نے مزید بتایا کہ امریکی ذمے داران کو پورے یقین سے نہیں معلوم کہ ایرانی جہازوں کی منزل کیا ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ آخر کار وینزویلا کا رخ کریں گے"۔

ذرائع کے مطابق وینزویلا میں صدر نکولس میڈورو کی حکومت کے سینئر ذمے داران نے صدر کو نصیحت کی ہے کہ وہ ایرانی جنگی جہازوں کا خیر مقدم نہ کریں کیوں کہ ایسا کرنا غلطی ہو گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا میڈورو نے اس انتباہ کا کیا جواب دیا۔

پولیٹیکو اخبار کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی سمت ایران کے بحری جنگی جہازوں کی موجودگی علاقے میں امریکی حکام کے لیے ایک چیلنج ہو گا۔

ایرانی فوج کی ایک رپورٹ کے مطابق مکران جہاز کا وزن 1.21 لاکھ ٹن ہے۔ اس پر ہیلی کاپٹروں کے لیے ایک ضخیم ہیلی پیڈ بھی موجود ہے۔ یہ جہاز ایک وقت میں پانچ ہیلی کاپٹروں اور لڑائی میں کام آنے والا 82 ہزار ٹن مختلف سامان لے جا سکتا ہے۔ یہ جہاز ساحل پر پہنچے بغیر ایک ہزار دن اور رات پانی میں تیرتے ہوئے گزارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔