.

بلغاریہ میں امریکی فوجیوں کا نیٹومشق کے دوران میں سورج مکھی تیل کی فیکٹری پرحملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملک بلغاریہ میں ایک فیکٹری مالک نے امریکی فوجیوں پراپنی سورج مکھی سے تیل نکالنے والی مِل پر غیرقانونی حملے کا الزام عاید کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں نے گذشتہ ماہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے تحت ایک مشق کے دوران میں اس کی فیکٹری پر دھاوا بول دیا تھا۔

فیکٹری کے مالک میرین دمتریف نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’انھوں نے 11مئی کو رونما ہونے والے اس واقعے کے ذمے داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔‘‘

’’سریع الحرکت ردعمل 2021ء‘‘ کے نام کثیرقومی مشقوں میں امریکا کی قیادت میں نیٹو کے 10 ملکوں کے سات ہزار سے زیادہ فوجیوں اور نیم فوجی دستوں نے حصہ لیا تھا۔یہ فوجی مشقیں ایسٹونیا ، بلغاریہ اور رومانیہ میں کی گئی تھیں۔

امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک مشق کے دوران میں اٹلی میں تعینات 173ویں ائیربورن بریگیڈ نے بلغاریہ کے جنوب میں واقع چیش نیگروفو ائیربیس پر قبضے اور اس کو محفوظ بنانے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔

11 مئی کو امریکی فوجی اس فضائی اڈے سے متصل واقع ایک عمارت میں داخل ہوگئے تھے۔وہ اس کو غلطی سے تربیتی علاقے کا حصہ سمجھے تھے لیکن اس میں بلغاری شہری موجود تھے اور وہ کوئی نجی کام کررہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اس ٹاکرے کے دوران میں کوئی ہتھیار نہیں چلایا گیا تھا۔‘‘

بلغاریہ کے صدر رومن رادیف نے اس واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’فوجی یونٹوں کی جانب سے بلغاری شہریوں کی زندگیوں اور آرام وسکون میں خلل انداز ہونا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں، خواہ یہ فوجی بلغاری ہوں یا غیرملکی مسلح افواج سے ان کا تعلق ہو،ان کی حرکت بالکل بھی قابل قبول نہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’بلغاریہ کی سرزمین پر مشقوں میں شریک ہمارے اتحادیوں کو اجتماعی دفاع کے ضمن میں سلامتی اور اعتماد کے احساس کو تقویت دینی چاہیے چہ جائیکہ وہ بلغاری عوام میں تناؤ کا سبب بنیں۔‘‘

بلغاریہ میں امریکی سفارت خانے نے اس ناخوش گوارواقعہ پر فیکٹری اور اس کے ملازمین سے معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم ہمیشہ ان مشقوں سے سیکھتے ہیں اور اس غلطی کے سبب کی مکمل تحقیقات کررہے ہیں۔

سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم آیندہ سخت طریق کاراپنائیں گے اور اپنے تربیتی علاقوں کا واضح تعیّن کریں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔‘‘