.
یمن اور حوثی

یمن میں جنگ بندی کے لیے مصالحتی کوششوں میں تیزی،عُمانی وفد صنعاء میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں قانونی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔اس سلسلہ میں عُمان کا ایک سرکاری وفد حوثی قیادت سے بات چیت کے لیے ہفتے کے روز صنعاء پہنچا ہے۔

حوثی ملیشیا کے ایک ذریعے نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے عُمانی وفد کی حوثی ترجمان محمدعبدالسلام اور دوسرے عہدے داروں کے ہمراہ یمنی دارالحکومت میں آمد کی تصدیق کی ہے۔

اس ذریعے نے مزید بتایاہے کہ ’’وفد حوثی لیڈرعبدالمالک الحوثی سے ملاقات کرنے والا تھا اور وہ انھیں مسقط میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کرے گا۔‘‘ان صاحب کے بہ قول عُمانی مصالحت کاروں کی آمد کا مقصد حوثیوں کو جنگ بندی اور امن مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کا 2016ء سے یمن کی فضائی حدود پر کنٹرول ہے۔اس کے بعد سے عبدالسلام اور حوثیوں کے بعض دوسرے عہدے داروں کی صنعاء میں واپسی پر پابندی عاید تھی۔مسلح تنازع کے دوران میں وہ پہلی مرتبہ عُمانی عہدے داروں کےساتھ دارالحکومت لوٹے ہیں۔

ان کی وطن واپسی کو یمن میں جنگ بندی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔حوثی لیڈرماضی میں متعدد مرتبہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو کھولنے کا مطالبہ کرچکے ہیں اور ان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ ہوائی اڈا کھلنے کی صورت ہی میں کسی سیزفائر سے اتفاق کریں گے۔

حوثیوں کے زیرانتظام المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے ترجمان عبدالسلام کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ’’ہم انسانی صورت حال سے متعلق انتظامات میں پیش رفت کے لیے کام کررہے ہیں۔اس کے علاوہ امن عمل پر بھی کام کررہے ہیں۔اس دورے کا مقصد عُمان میں ہونے والی بات چیت کوتقویت بہم پہنچاناہے۔‘‘

سلطنت آف عمان کی سرحدیں یمن اور سعودی عرب سے ملتی ہیں۔یہ ننھا خلیجی ملک امریکا کا اتحادی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے ایران سے بھی اچھے تعلقات استوار ہیں۔وہ ماضی میں بھی علاقائی تنازعات میں مصالحت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اب عُمان دوسرے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے اور فریقین کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کار اور ثالث کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔عُمانی دارالحکومت مسقط ہی میں امریکا کے خصوصی ایلچی برائے یمن ٹِم لنڈرکنگ اور حوثیوں کے درمیان گذشتہ مہینوں میں براہ راست ملاقاتیں ہوئی ہیں۔