.

طالبان کےبڑھتے اثرو نفوذ کے دوران افغان وزرا دفاع وداخلہ تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر اشرف غنی نے ہفتے کے روز ملک کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر وزرا داخلہ اور دفاع کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت عسکریت پسند گروپ طالبان کی بڑھتی سرگرمیوں اور لڑائیوں میں افغانستان کےمزید علاقوں پر طالبان کے قبضے کے بعد سامنےآئی ہے۔

دفاعی اور داخلی محکموں میں تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور امن مذاکرات کا سلسلہ بدستور متاثر ہے۔ حالیہ ہفتوں میں طالبان نے مختلف علاقوں میں 40 سے زائد اضلاع کو اپنے کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا ہے۔

ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل بسم اللہ خان محمدی کو نیا وزیر دفاع مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔وہ 1990 کے عشرے میں خانہ جنگی کے دوران طالبان مخالف رہ نما احمد شاہ مسعود کی سربراہی میں لڑائی میں شریک رہے ہیں۔

محمدی اس سے قبل دفاعی اور داخلی محکموں کے فرائض انجام دے چکے ہیں اور 2001 میں امریکی مداخلت اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہ فوج کے عملے کی قیادت کرچکےہیں۔

ایوان صدر نے مزید کہا کہ صدر غنی نے جنرل عبد الستار میرزا کوال کو وزیر داخلہ مقرر کیا۔ اس سے قبل میرزاکوال کئی علاقائی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔

محمدی کو سبکدوش ہونے والے وزیر دفاع اسداللہ خالد کی جگہ تعینات کیا گیا ہے۔ اسداللہ 2012 میں خودکش حملے میں زخمی ہونے کےبعد علاج کے لیے بار بار بیرون ملک سفر کرتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں مئی کے آغاز سے تشدد کے واقعات میں غیرمعمولی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی لڑائیوں افغان فورسز کو بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔