.

کانگریس میں عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں پر پابندی کے لیے قانون سازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ری پبیلکن ارکان نے عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد عسکری گروپوں پر پابندیوں کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے۔

کانگریس میں جوبائیڈن انتظامیہ پر یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں ڈالا جا رہا ہے جب حال ہی میں امریکی فوج نے شام اور عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے جن میں متعدد جنگجو ہلاک اور بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود تباہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ایران نواز گروپوں کی طرف سے عراق کی سرزمین پر امریکی مفادات پربار بار حملوں کے نتیجے میں کانگریس میں ری پبلیکن ارکان کو سخت مایوسی دوچار کیا تھا تاہم جب جوبائیڈن انتظامیہ نے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر حملے کیے تو کانگریس میں ان کی وسیع پیمانے پر حمایت کی گئی۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے تھے جب دوسری طرف ویانا میں امریک اور ایران کے درمیان سنہ 2015ء کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات بھی جاری رتھے۔

ایران کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے دوران جوبائیڈن انتظامیہ نے تہران کے حوالے سے لچک دکھاتے ہوئے ایران پر عاید بعض پابندیاں نرم کردیں اور مزید پابندیوں سے بھی گریز کی پالیسی اپنائی ہے، تاہم ایران سے باہر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے معاملے میں جوبائیڈن انتظامیہ کا موقف اصولی اور سخت ہے۔

جوبائیڈن کی جانب سے ایران پر سخت پابندیوں اور حد درجہ دباؤ کی پالیسی سے گریز پر کانگریس میں ری پبلیکنز کی طرف سے انہیں مسلسل تنقید کا بھی سامنا ہے۔

اسی پیش رفت کے جلو میں امریکی سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے رکن گریگ اسٹیوپی نے عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر پابندیاں عاید کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی ہے۔

وہ کانگریس میں ایک بل پیش کرنا چاہتے ہیں جس میں عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ گروپوں پر پابںدیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

اسٹیوپ نے اخبار Washington Free Beacon سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ دوہرےمعیار پر چل رہی ہے۔ ایک طرف ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران پر عاید کی گئی پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ کو دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خلاف بھی ٹھوس موقف اختیار کرنا ہو گا۔