.
یمن اور حوثی

حوثی ملیشیا بچوں کو عسکریت پسند بنانے میں مصروف ہے: الاریانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کو عسکریت پسند بنانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی دنیا کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نواز دہشت گرد حوثی ملیشیا کے ہاتھوں پوری ایک نسل کے یرغمال بننے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں الاریانی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ہزاروں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے ، کھیلنے اور قدرتی شکل میں زندگی گزارنے سے مسلسل محروم کر رہی ہے۔ ملیشیا ان بچوں کو اپنے معرکوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہے تا کہ تہران میں اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے کام آ سکیں۔

یمنی وزیر اطلاعات نے ایک منظر بھی پوسٹ کیا ہے جس میں پھول جیسے سیکڑوں بچوں کو حوثی ملیشیا ان کے گھروں اور اسکولوں کی کلاسوں سے کھینچ کر لے جا رہی ہے تا کہ ان بچوں کو "سمر کیمپ" کے نام پر اپنے ایک تربیتی عسکری کیمپ میں جھونک دے۔ وزیر اطلاعات الاریانی کے مطابق حوثی ملیشیا ان بچوں کے معصوم ذہنوں میں ایران سے درآمد شدہ شدت پسندانہ اور فرقہ ورانہ افکار کا زہر گھول رہی ہے۔

یمن میں بچوں کے حقوق سے متعلق تنظیم "سیاج" نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے رواں سال 2021ء میں چھ ہزار "سمر کیمپوں" کے ذریعے کم از کم پانچ لاکھ بچوں کو بھرتی کیا۔ تنظیم کے مطابق ملیشیا ان بچوں کو تربیت دے کر آئندہ مرحلے میں لڑائی کے محاذوں پر جھونکے گی۔

یاد رہے کہ رواں سال 18 جون کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے حوثی ملیشیا کا نام تنازعات کے علاقوں میں بچوں کے حقوق کی پامالی کے مرتکب ممالک اور جماعتوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔