.

امریکا : ریاست نیویارک کےگورنراینڈریوکوَوموجنسی ہراسیت کے اسکینڈل کےبعد مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کوَومو نے اپنے خلاف جنسی ہراسیت کے الزامات کی تحقیقات کے بعد منگل کے روز عہدے سے استعفا دے دیاہے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق انھوں نے 11 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔کوومو ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ 2011 ء سے امریکا کی چوتھی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کے گورنر چلے رہے آ رہے تھے۔

63 سالہ کوومو نے نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیٹیا جیمز کی پانچ ماہ تک آزادانہ تحقیقات کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایسا نازیبا طرزعمل اختیار کیا تھا جو امریکی اور ریاستی قوانین کے منافی تھا اور وہ ان قوانین کی خلاف ورزی کے مرتب ہوئے ہیں۔

انھوں نے ٹیلی ویژن پر20 منٹ تک تقریر کی اور کہا کہ ان کے استعفاکا اطلاق 14 دن میں ہو جائے گا۔اس طرح ان کے طویل سیاسی کیریئر کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

کوومو نے ایک بار پھر کسی بھی غلط کاری کی تردید کی۔ البتہ انھوں نے خواتین کوناراض کرنے کی’’مکمل ذمہ داری‘‘ قبول کی مگراپنے طرزعمل کو غلط نہیں کہا ہے اور اس کی یہ توضیح بیان کی ہے کہ وہ تو خواتین سے محبت کے اظہار یا انھیں محظوظ کرنے کے لیے ایسا کیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ عہدے پربرقرار رہتے ہوئے الزامات کا مقابلہ کرتے ہیں تواس سے ریاستی حکومت مفلوج ہوجائے گی اور ٹیکس دہندگان کو ایک ایسے وقت میں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوگا جب ابھی کرونا وائرس کی وبا کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔

گورنر کے عہدے سے مستعفی ہونے سے وہ ڈیموکریٹس کی بالادستی کی حامل ریاستی اسمبلی میں اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی بھی بچ گئے ہیں کیونکہ مقننہ میں ان کے مواخذے کا قومی امکان تھا اور اس طرح انھیں زیادہ بے توقیر ہو کر گورنری سے دستبردار ہونا پڑتا۔

اٹارنی جنرل کی 168صفحات کو محیط تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوومو نے موجودہ اور سابق سرکاری اہلکارخواتین سے نازیبا انداز میں چھیڑ چھاڑ کی،ان کے نازک اعضا کو ٹٹولا، بوسہ دیا یا اشاروں کے ساتھ تبصرے کیے تھے۔ ان متاثرہ خواتین میں ایک ریاستی فوجی بھی شامل تھی۔اس نے گورنر پرجنسی بدسلوکی کا الزام لگایا تھا۔

اب کوومو کی جگہ 62 سالہ ڈیموکریٹ لیفٹیننٹ گورنر کیتھی ہوشل گورنر کا منصب سنبھالیں گی۔وہ مغربی نیویارک سے تعلق رکھتی ہیں، وہ دسمبر 2022 میں کوومو کی مدت کے اختتام تک ایک کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل آبادی والی اس ریاست کی گورنر رہیں گی۔وہ ریاست نیویارک میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

ہوشل نے ایک بیان میں کہاکہ ’’میں گورنرکوومو کے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے سے اتفاق کرتی ہوں۔ یہ ایک درست اقدام ہے اور اہلِ نیویارک کے بہترین مفاد میں ہے۔‘‘

کوومو حالیہ برسوں میں خواتین کے جنسی استحصال اور انھیں ہراساں کرنے کے خلاف ’’می ٹی تحریک‘‘ کے زد میں آنے والے امریکا کے طاقتور شخص بھی بن گئے ہیں۔اس تحریک نے امریکی سیاست، ہالی ووڈ اور کاروباری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور کئی ایک نامور شخصیات کے جنسی ہراسیت کے اسکینڈل منظرعام پرآچکے ہیں۔

گذشہ ہفتے کوومو پر الزام لگانے والوں میں سے ایک برٹنی کومیسو نے البانی کاؤنٹی کے شیرف کے دفتر میں ایک فوجداری رپورٹ درج کرائی تھی۔اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ گورنر نے گذشتہ نومبر میں البانی کی ایگزیکٹو مینشن میں اس کی چھاتی کو ٹٹولا تھا۔ شیرف نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کا دفتر اس الزام کی مکمل تحقیقات کرے گا۔

کوومو کئی ماہ تک اپنے خلاف جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے الزامات کی تردید کرتے رہے تھے اور تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے کے بعد ان تردیدوں کی تجدید کی تھی۔ لیکن رپورٹ عام ہونے کے بعد وہ سیاسی حمایت کھو بیٹھے تھے اور خود صدر جو بائیڈن نے، جو برسوں سے کوومو کے دوست تھے، وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’میرے خیال میں انھیں مستعفی ہوجانا چاہیے۔‘‘

ریاست کے دو امریکی سینیٹرز چک شومر اور کرسٹن گلیبرانڈ اور امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی سمیت دیگر ممتاز ڈیموکریٹس بھی کوومو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔

کوومو تین مرتبہ ریاست نیویارک کے گورنر منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل انھوں نے سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں 1997 سے 2001ء تک امریکی محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔