.
افغانستان وطالبان

امریکی انٹیلی جنس نےافغان فوج کے موسم گرما میں’ڈھے‘پڑنے سے متعلق کیاانتباہ کیاتھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے کلاسیفائیڈجائزے میں خبردار کیا تھاکہ افغانستان میں فوج اسی موسم گرما میں ’ڈھے‘پڑے گی مگر صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے یہ عوامی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ایسا اتنی تیزی سے ہونے کا امکان نہیں مگر افغان فوج طالبان کی پیش قدمی کے مقابلے میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہے اور وہ سراغرساں اداروں کے جائزوں کے برعکس تتربتر ہوگئی ہے۔

امریکی اخبارنیویارک ٹائمز نے اپنے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جولائی میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایک خصوصی رپورٹ میں افغان دارالحکومت کابل کو لاحق خطرات کے بارے میں بتایا گیا تھا۔اس میں مزید کہا گیا تھا کہ افغانستان کی حکومت طالبان کے کابل شہر پر حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرنیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ’’امریکی خفیہ ایجنسیوں نے کبھی طالبان کے اس قدر تیزی سے قبضے کی واضح پیشین گوئی نہیں کی تھی۔‘‘

امریکا نے سوموار کو واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان حکومت کو صرف اسی صورت میں تسلیم کرے گا جب وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرے گی اور القاعدہ جیسی انتہا پسند تحریکوں سے کنارہ کشی اختیار کرلے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال پر صحافیوں کو بتایا کہ اس کا انحصار طالبان کے اقدامات پر ہوگا۔انھوں نے واضح کیا کہ بالآخر جب افغانستان میں مستقبل کی کسی بھی حکومت کے بارے میں ہمارے مؤقف کی بات آئے گی تو اس کا انحصار اس کے اقدامات ہی پر ہوگا۔