.
افغانستان وطالبان

’شیر پنجشیر‘ احمد مسعود طالبان کی ڈرامائی فتووحات کے لیے بڑا خطرہ کیوں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے بیشتر حصوں پر طالبان کا کنٹرول ایک خوشگوار پکنک نہیں ہوگا جیسا کہ لگتا ہے کیونکہ افغانستان کی وادی پنج شیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پر اب بھی طالبان کا کوئی عمل دخل نہیں۔

پنجشیر میں موجود مقتول کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود طالبان کی گھات میں ہےاور کسی بھی وقت وہ افغانستان میں جنگ کی آگ بھڑکا سکتا ہے۔ اگرچہ تحریک طالبان کے شدت پسند برسوں سے اس کا پیچھا کر رہے ہیں مگر وہ ابھی تک طالبان کے قابو نہیں آسکا ہے۔

احمد مسعود کی عمر صرف 31 سال ہے۔ احمد مسعود اپنے والد کے قتل کے بعد سوگوار چھ بھائیوں میں سے ایک ہے جسے "افغانستان کا قومی ہیرو" اور ’شیر پنجشیر‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ 1996 میں احمد شاہ مسعود کی عمر 48 سال تھی۔ اس نے طالبان کی ابھرتی تحریک کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا۔ 11 ستمبر 2001 کو واشنگٹن اور نیو یارک میں ہونے والے حملوں سے دو دن پہلےاس وقت "القاعدہ" تنظیم کے رہ نما کے اسامہ بن لادن کے حکم سے احمد شاہ مسعود کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی پیدائش سنہ1989 کے وسط میں پڑوسی ریاست تاجستان کی سرحد کے قریب شمال مشرقی افغانستان کے علاقے ’بختار‘ میں ہوئی۔

پنجشیر صوبہ طالبان مخالف مزاحمت کا مضبوط مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس صوبے کے طاقت ور نوجوان کمانڈر احمد مسعود نے حال ہی میں فرانسیسی میگزین’رول آف دی گیم‘ میں شائع ہونے والی ایک اپیل تمام آزادی پسند افغانیوں اور غلامی کو مسترد کرنے والوں کو دعوت دی کہ وہ پنجشیر میں جمع ہوں۔ اس نے تمام افغان قبائل سے بھی اپیل کی کہ وہ طالبان کی شورش کے خلاف جنگ کے لیے اس کا ساتھ دیں۔

افغانستان میں حکمرانی کا سوئس ماڈل

مسعود نے 2012 میں برٹش رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں ایک سالہ کورس مکمل کیا۔ 2015 میں کنگز کالج لندن سے وار اسٹڈیز میں بی اے اور 2016 میں بین الاقوامی سیاست میں ایم اے سٹی یونیورسٹی آف لندن ریسرچ سے کیا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو احمد مسعود کے بارے میں ملنے والی معلومات میں پتا چلا ہے کہ وہ اپنے والد کے قتل سے قبل ہی شمالی اتحاد جیسے اتحاد تشکیل دینے میں مہارت حاصل کرچکا تھا۔ شمالی اتحاد کی قیادت احمد شاہ مسعود کے ہاتھ میں تھی جس نے آخر دم تک طالبان کا مقابلہ کیا۔

احمد شاہ مسعود اور اس کے بیٹے احمد مسعود کو کئی عالمی فورمز پر پذیرائی دی گئی اور ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ ایک ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ پیرس کے ایک پارک میں واک وے بھی ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

مسعود جو طالبان مخالف "قومی مزاحمتی محاذ" کی واحد ریاست "پنجشیر" سے ہیں جو تحریک کے کنٹرول میں آنا مشکل ہے۔ حمد کو اپنے والد کے "سوئس ماڈل" کے خیال کے حامی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس ماڈل میں حکومت کو لامرکزیت کا تصور اور اختیارات کا مرکز دارالحکومت نہیں ہوتا۔

اس تصور میں ملک کی چوبیس ریاستوں کو وسائل اور طاقت کی زیادہ موثر تقسیم شامل ہے۔ اس خیال کے خلاصے کے مطابق جسے وہ "پروجیکٹ" کے طور پر بیان کرتا ہے دو سال سے پروموٹ کر رہا ہے۔ اس لیے اس نے امریکا ، یورپی اور عرب ممالک کا سفر کیا اور ان سے پیسے ، ہتھیار اور لاجسٹکس سے مدد مانگی۔